menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Duayen Qubool Hoti Hain

25 9
03.02.2026

یہ 28 فروری 2020کی ایک خنک دوپہر تھی۔ آج ڈیلفٹ یونیورسٹی میں میرا آخری دن تھا۔ صبح گیارہ بجے انتطامیہ کی طرف سے ہمیں فئیر ویل دی جا چکی تھی۔ میں نے صبح نو بجے روٹرے ڈیم سٹوڈنٹ ہوٹل سے اپنا کمرہ چھوڑ دینا تھا اور وطن واپس روانہ ہونا تھا۔

دوپہر ایک بجے یونیورسٹی کی کیفے ٹیریا میں ہم کلاس فیلوز نے آخری لنچ لیا۔ میرے گروپ فیلوز میرے ہمراہ تھے۔ کیرالہ سے ٹومس، یمن سے سعدی، اردن سے موتاز، ایران سے ایل ناز اور انڈونیشیا سے رستیانہ۔۔ ہم خاموش تھے، کبھی کبھار کوئی بول لیتا تھا، ہمیں معلوم تھا ہمارا یہ مختصر ساتھ اب ہمیشہ کے لئے ٹوٹنے والا تھا۔ کچھ ماہ کی یہ عارضی کمپینین شپ اب ہوا میں یوں تحلیل ہو جانی تھی، جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔ زندگی کا سفر بھی یونہی عارضی ہوتا ہے۔ کردار ملتے ہیں پھر بچھڑ جاتے ہیں، اکثر کبھی دوبارا نہ ملنے کے لئے۔ یہ تو براعظمی اکٹھ تھا، یہاں تو دوبارا ملنے کے امکانات ویسے ہی بہت معدوم تھے۔

کھانے کی میز سے ہم سب منتشر الذہنی کے ساتھ اٹھے۔ میں بوجھل قدموں سے سیڑھیاں چڑھ کے اوپر لابی میں شیشے کی دیوار کے ساتھ جا بیٹھا۔ نیچے باہر نظر دوڑائی تو ہالینڈ کے لوگوں کی زندگی رواں دواں تھی، دور سامنے ٹرام کا ٹریک بھی نظر آ رہا تھا، جس پہ وقفے وقفے سے ٹرام گزر رہی تھی۔

یوں ایسے ہی میرے دل میں ایک خیال آیا، کیا میں یہاں کبھی دوبارا آ پاؤں گا؟ یونیورسٹی کے درو دیوار سے مجھے انسیت سی ہوگئی تھی۔ کیفے ٹیریا کی مس مارتھا کو طرف دھیان چلا گیا، جو ہر روز ہمیں کھانے کی ٹرے پکڑاتے ہوئے کہتی........

© Daily Urdu