Mulla Nahi, Mulla Ka Siasi Qabeela
ملاّ نہیں، ملاّ کا سیاسی قبلہ
پاکستانی لبرل دانش کا ایک دلچسپ مسئلہ یہ ہے کہ یہاں بعض اوقات ملائیت کی تعریف لغت سے نہیں، سیاسی نقشے سے متعین ہوتی ہے۔ ملاّ اگر مخالف کی صف میں کھڑا ہو تو اس کی دستار کے پیچوں سے لے کر اس کے خاندان کے ولیمے تک سیکولر خوردبین کے نیچے آجاتے ہیں۔ اس کا مکان، اس کے بیٹے کا کاروبار، اس کے پوتے کی شادی، شادی کس ملک میں ہوئی، دسترخوان کتنا بڑا تھا، عمارت کتنی قیمتی تھی، سب کچھ مذہبی پیشوائیت کی سیاسی معاشیات کا ثبوت بن جاتا ہے۔ لیکن یہی ملاّ اگر کسی پسندیدہ سیاسی اتحاد کی مناسب سمت میں کھڑا ہو جائے تو خوردبین اچانک دوربین بن جاتی ہے اور دوربین بھی ایسی جس کا رخ کسی اور طرف ہو۔
وجاہت مسعود کی ڈاکٹر طاہر القادری کے بیٹے شیخ حماد کے فرانس میں مبینہ "گرینڈ ولیمے" پر لکھی حالیہ پوسٹ اسی لیے دلچسپ ہے۔ دلچسپ ولیمہ نہیں، وہ ترازو ہے جس پر ولیمہ رکھا گیا ہے۔ پوسٹ میں طاہر القادری کے مذہبی منصب، ان کے خاندان کی معاشی ترقی اور بیرون ملک شادی کی تقریب کو ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جوڑا گیا ہے کہ قاری کو بتایا جاسکے: دیکھیے، سادگی کے قصے سنانے والے ملاّ کے گھر میں کیسی آسودگی آگئی۔
اس سوال پر مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
مذہبی پیشوا دولت کہاں سے لاتا ہے؟ اس کے ادارے کی معاشی ساخت کیا ہے؟ اس کے خاندان کی طبقاتی نقل و حرکت کیسے ہوئی؟ مذہبی سرمایہ معاشی اور سیاسی سرمائے میں کیسے تبدیل ہوتا ہے؟ چندہ، ادارہ، عقیدت، سیاست اور خاندانی خوش حالی آپس میں کہاں ملتے ہیں؟ یہ سب نہایت جائز سوال ہیں۔
صرف ایک چھوٹی سی درخواست ہے۔
ترازو یہیں چھوڑ دیجیے گا۔
اسے اگلے مولوی کے آنے سے پہلے الماری میں بند نہ کیجیے گا۔
کیونکہ اگر کسی مذہبی پیشوا کے بیٹے یا پوتے کی معاشی خوش حالی اس کی مذہبی سیاست کے تجزیے کا جائز حوالہ ہے تو پھر پاکستان کے دوسرے بڑے مذہبی سیاسی خانوادوں کی معاشی تاریخ بھی اسی محبت سے لکھی جانی چاہیے۔ اگر پیرس کا ولیمہ سوال پیدا کرتا ہے تو مدارس، سیاسی خاندانوں، تجارتی مفادات، جائیدادوں اور نسل در نسل منتقل ہونے والے مذہبی و سیاسی سرمائے کے بارے میں بھی سوال پیدا ہونے چاہییں۔ اگر عقیدت مندوں کی جیب اور پیشوا کے خاندان کی خوش حالی کے درمیان تعلق تلاش کرنا علمی دیانت ہے تو یہ دیانت مسلک دیکھ کر چھٹی پر نہیں جانی چاہیے۔
یہیں سے اصل مسئلہ شروع ہوتا ہے۔
وجاہت مسعود سمیت ہمارے لبرل حلقوں کے ایک حصے کے ہاں مذہبی سیاست پر تنقید کی شدت حیرت انگیز طور پر غیر مساوی دکھائی دیتی ہے۔ طاہر القادری کے ذکر میں طنز کے دانت فوراً نکل آتے ہیں۔ زبان میں تیزاب گھل جاتا ہے۔ ان کے مذہبی لقب سے لے کر خاندانی تقریب تک ہر چیز سیاسی استعارہ بن جاتی ہے۔ لیکن دیوبندی مذہبی سیاست، اس کی طبقاتی تشکیل، اس کے بعض حلقوں کی فرقہ وارانہ تاریخ، افغان جہاد سے اس کے پیچیدہ رشتوں، طالبان کے بارے میں مختلف مذہبی جماعتوں کے موقف، عورتوں کے حقوق سے متعلق قانون سازی کی مخالفت اور مذہبی اقلیتوں کے سوال پر پہنچتے پہنچتے یہی قلم اکثر حیرت انگیز تہذیب سیکھ لیتا ہے اور تہذیب یقیناً اچھی چیز ہے۔
سوال صرف یہ ہے کہ تہذیب طاہر القادری کے گھر کا........
