menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mujhe Zaroor Batayen

24 0
19.03.2026

میری کلاس میں ایسے بچے بھی ہیں جن کی مادری زبان انگریزی نہیں ہے۔ ان میں سے بیشتر ہسپانک ہوتے ہیں اور گھر میں اسپینش بولتے ہیں۔ بعضے چند دن یا چند ہفتے پہلے امریکا آئے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے ملکوں میں پاکستان کی طرح انگریزی اسکول کے نصاب میں شامل نہیں۔ وہ ایسے کورے ہوتے ہیں کہ انگریزی کا ایک لفظ نہیں جانتے۔

میں پہلے پوری کلاس کو لیکچر دیتا ہوں اور کونسیپٹس سمجھاتا ہوں۔ پھر ورک شیٹ دینے کے بعد ان بچوں کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کیونکہ اس سے پہلے وہ میری گفتگو سن تو رہے ہوتے ہیں لیکن انھیں سمجھ کچھ نہیں آیا ہوتا۔

سوشل میڈیا پر بھی یہی صورت دیکھنے کو ملتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ آپ کی زبان سمجھنے والے بھی آپ کی بات نہیں سمجھتے۔ خاص سانچے کے مذہبی یا نظریاتی ذہن، نصاب تعلیم، میڈیا پروپیگنڈے اور ذاتی تعصبات ایک ایسا فلٹر بن جاتے ہیں جس سے نکلنے والی ہر بات کو لوگ اپنے معنی دیتے ہیں، اصل معانی سمجھنے کے قابل نہیں رہتے۔ مجھے تقریباََ ہر روز اس کا تجربہ ہوتا ہے۔ شاید آپ کو بھی ہوتا ہو۔ پہلے مجھے ہر تحریر کے بعد وضاحتیں کرنی پڑتی تھیں۔ اب نہیں کرتا کیونکہ لوگ ہی........

© Daily Urdu