menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Moscow Se Makka (20)

10 1
31.01.2026

آج احمد اور اس کے شناسا لوگوں کو "انجوائے" کرنے کے لیے جدّہ جانا تھا۔ میں نے پوچھا انجوائے کرنے کیا کسی "ڈسکوتھیکا" میں جاؤ گے تو ہنس پڑا تھا۔ بتایا تھا کہ بحیرہ احمر میں تیرنے جائیں گے۔

میں نے ظہر کی نماز ہوٹل کے ساتھ والی مسجد میں پڑھی تھی۔ مسجد میں اذان دینے والا ایک کم عمر حبشی تھا، جو اذان دیتے ہوئے کبھی سر کا رومال ٹھیک کیا کرتا تھا، کبھی خود کو کھجانے لگ جایا کرتا تھا۔ ہمارے ساتھ ایک اور شخص ماگومید انگش تھا۔ اسے بہت غصہ آتا تھا کیونکہ صرف موذّن ہی نہیں، بہت سے دیگر سعودی نمازی بھی نماز پڑھنے کے دوران اگر موبائل فون وائیبریٹ کرتا تو جبّے کی جیب سے نکال کر نمبر دیکھ لیتے تھے یا شاید ایس ایم ایس بھی پڑھ لیتے ہوں۔ ماگومید انگش نے پوچھا تھا کہ یہ اذان اور نماز کی تعظیم کیوں نہیں کرتے؟ میں ہنس دیا تھا۔ میں نے اسے بتایا تھاکہ بھائی اذان اور نماز ان کے ہاں کے پراڈکٹ ہیں۔ وہ اسے معمول کی سرگرمی سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس ہم نے ان کے ساتھ اپنی اپنی مقامی روایات تعظیم و تقدس کو نتھی کر دیا ہے جو بالکل بھی بری بات نہیں لیکن ان کی روایت تقدس سے عاری اور فرض تک محدود ہے۔ مثال کے طور پر اگر میرے پاؤں لاعلمی میں کعبے کی طرف ہو جائیں تو میری بیٹی طوفان کھڑا کر دیتی ہے جبکہ تم سب لوگ مسجد میں کعبے کی طرف ٹانگیں سیدھی کرکے عام بیٹھے ہوتے ہو۔

اس مسجد کے امام بلند قامت، تن و توش اور تیکھے نقوش والے چالیس پینتالیس برس کے شخص تھے۔ وہ منبر کے بغلی دروازے سے بس نماز پڑھانے کے وقت ہی داخل ہوا کرتے تھے۔ داخل ہوتے وقت ان کے دائیں ہاتھ میں اعلٰی قسم کا ٹیلیفون ہوتا تھا جس پہ وہ غالباََ انٹرنیٹ دیکھتے ہوئے داخل ہوا کرتے تھے۔ منہ میں البتہ مسواک کی ڈنڈی ضرور اڑسی ہوتی تھی۔ لوگوں پہ اپنی بڑی بڑی........

© Daily Urdu