menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Neki Dil Ko Khushi Deti Hai

20 0
06.05.2026

نیکی دل کو خوشی دیتی ہے

گاؤں کے کنارے ایک چھوٹا سا گھر تھا جہاں احمد اپنی اماں کے ساتھ رہتا تھا۔ احمد دل کا نرم تھا جیسے بہتی ندی کا پانی صاف اور ٹھنڈا ہوتا ہے۔ وہ ہر ایک کی مدد کرنا چاہتا تھا۔ اس کی ماں اکثر کہتی تھی: "بیٹا دوسروں کا خیال رکھنا اچھی بات ہے مگر اپنے دل کو بھی خوش رکھنا ضروری ہے"۔ احمد یہ بات سنتا تو سر ہلا دیتا مگر اس کے دل میں سوال اُٹھتا کہ دونوں باتیں ایک ساتھ وقوع پذیر کیسے ہو سکتی ہیں؟

ایک دن احمد سکول سے واپس آ رہا تھا۔ راستے میں اس نے دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی لکڑیوں کا گٹھا اُٹھائے جا رہا ہے۔ وہ تھک چکا تھا اور اس کے قدم جیسے زمین سے چِپک گئے ہوں۔ احمد فوراً آگے بڑھا اور بولا: "بابا جی میں آپ کی مدد کرتا ہوں"۔ بوڑھے نے مسکرا کر کہا "بیٹا! تمہاری عمر کھیلنے کی ہے"۔ احمد نے ہنس کر کہا: "نیکی کر دریا میں ڈال"۔ یہ کہہ کر اس نے لکڑیوں کا گٹھا اُٹھا لیا اور بوڑھے کے گھر تک پہنچا دیا۔ بوڑھا خوش ہوا اور دُعا دی کہ بیٹا تم نے مدد کی خدا کرے تمہارا دل ہمیشہ خوش رہے۔

اس واقعے کے بعد احمد گھر پہنچ کر تھکاوٹ محسوس کرنے لگا۔ اس نے سوچا کہ آج وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل نہیں سکا۔ اس کا دل تھوڑا سا اُداس ہوا جیسے بادل سورج کو چُھپا دیتے ہیں ویسے ہی اس کی خوشی چھپ گئی۔ اس کی ماں نے........

© Daily Urdu