menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kya Ustad Hona Qabil e Sharam Hai?

30 0
29.04.2026

کیا اُستاد ہونا قابلِ شرم ہے؟

یہ سوال سُننے میں جتنا تلخ ہے حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ کربناک ہے۔ وہ اُستاد جسے کبھی قوم کا معمار کہا جاتا تھا آج اپنے تعارف میں جِھجک محسوس کرتا ہے۔ جو شخص نسلوں کی آبیاری کرتا ہے وہ خود معاشی بدحالی اور سماجی بے توقیری کا شکار ہے۔ پاکستان میں اُستاد کا مقام کتابوں اور تقریروں میں تو بہت بلند دکھایا جاتا ہے مگر عملی زندگی میں اس کی حالت ایسی ہے جیسے چراغ تلے اندھیرا۔

حضرت علیؓ سے منسوب قول ہے: "جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا میں اس کا غلام ہوں"۔ یہی تصور ہماری تہذیب کی بنیاد تھا۔ اُستاد کو روحانی باپ سمجھا جاتا تھا۔ دیہات میں ماسٹر صاحب کا نام عزت سے لیا جاتا تھا اور شہر میں پروفیسر صاحب کی مجلس کو وقار حاصل ہوتا تھا۔

آج صورت حال بدل چکی ہے۔ اب دولت عزت کا پیمانہ بن گئی ہے اور شو آف نے کردار کو نِگل لیا ہے۔ جس کے پاس بڑی گاڑی اور بڑا بنگلہ ہے وہی مُعتبر سمجھا جاتا ہے چاہے علم سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔

ڈاکٹر علامہ اقبال نے کہا تھا:

اَفراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے مِلّت کے مقدر کا ستارہ

افسوس! وہ فرد جو قوم کا مقدر سنوارتا ہے آج خود بے بسی کی تصویر بن چکا ہے۔ اُستاد کی تنخواہ اتنی کم ہے کہ گھر کا چولہا جلانا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور تنخواہ زمین سے چِپکی ہوئی ہے۔ ایک اُستاد جب اپنے بچوں کی فیس ادا نہیں کر پاتا، جب بیمار ماں کی دوا خریدنے سے پہلے جیب ٹٹولتا ہے تو اس کے اعتماد کی دیوار میں دراڑ پڑ جاتی........

© Daily Urdu