menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jadeed Nafsiyat Aur Insani Ahwal

18 9
21.01.2026

جدید عہد میں انسان کے ذہنی اور نفسی احوال میں زبردست تبدیلی پیدا ہوگئی ہے۔ ان میں سے نمایاں ترین احوال دو ہیں: ایک رنجوری (mealncholy) اور دوسرا بیگانگی (alienation)۔ باقی سارے ذہنی اور نفسی احوال انھیں سے پیدا ہوئے ہیں۔ رنجوری/مالیخولیا بنیادی طور پر ذہنی احوال میں تبدیلی سے پیدا ہوتا ہے جبکہ بیگانگی اپنی ذات سے فراموشگاری کے نفسی احوال سے عبارت ہے۔ رنجوری کا مسئلہ اول اول تحریک نشاۃ ثانیہ میں سامنے آیا اور شیکسپئر کے ڈرامے "ہمیلٹ" کا اسی نام سے مرکزی کردار ایک melancholic prince کے طور پر سامنے آتا ہے۔ رنجوری کا منبع شعور میں قرار پکڑنے والا to be or not to be کا سوال ہے جس کا اس ڈرامے کے مرکزی کردار کو سامنا ہے۔

یہ سوال اس وقت کھڑا ہو جاتا ہے جب شدتِ آلام معلومِ ہستی و مقصود ہستی کی معنویت پر سوال کھڑے کر دیتی ہے۔ ایسی صورت حال میں عقیدے کے خاتمے یا اس کے مشتبہ ہو جانے یا اس کے غیرمتعلق ہو جانے یا اس کے ناکافی ہونے کے احوال ذہن کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ عقیدے کی ٹوٹن کے ساتھ ہی وجودی بوجھ انسانی شعور پر واشگاف ہو جاتا ہے اور وہ ہستی کی بےپایانی کے روبرو چٹخ جاتا ہے۔ چٹخا اور دراڑ زدہ انسانی شعور کا خود کو،........

© Daily Urdu