Youm e Mazdoor
انسانیت کے ماتھے پر یہ داغ ہمیشہ چمکتا رہے گا کہ کبھی انسان، انسان کی ملکیت ہوا کرتا تھا اور انسان نے انسان کا استحصال کیا ہے۔ ازل سے انسانوں کی یہ جبلت رہی ہے کہ وہ دوسروں کو زیر کرکے خود کو برتر ثابت کرے اور اُنھیں اپنا غلام بنائے۔ اس لیے انسان تب بھی جنگیں لڑتا تھا اور آج بھی لڑ رہا ہے۔
غلامی کی سب سے بڑی وجہ خونی جنگیں ہی تھی۔ زیادہ سے زیادہ وسائل اور لوٹ مار کی لالچ میں انسان نے اپنے جیسے اشرف المخلوقات کو غلام بنایا۔ اس کے علاوہ تجارت میں فروخت ہونا، غلام خاندان میں پیدایش، قرض کا بروقت ادا نہ کرنا اور کسی جرم کی سزا کے طور پر غلام بننا بھی غلامی کی وجوہات میں شامل تھا۔
یہ بات تو بیشتر جانتے ہوں گے کہ غلاموں کے حقوق ہوا کرتے تھے، نہ اُنھیں انسان ہی سمجھا جاتا تھا۔ اُن کی بس ذمے داریاں ہوا کرتی تھیں، جن میں اکثر جنسی مشقت بھی شامل تھی۔ مذکورہ سب ذمے داریاں کسی روز اُن کی موت پر تمام ہوجاتی تھیں۔
غلامی تقریباً ہر دور میں معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوا کرتی تھی۔ اس لیے "ارسطو"، "پولی بیئس" (Polybius) اور دیگر مفکروں نے غلامی کو جائز قرار دیا تھا۔
اسلام نے بھی اسی وجہ سے غلامی کو مکمل ختم نہیں کیا تھا، البتہ اچھی خاصی اصلاحات کی تھیں۔ خطبہ حجۃ الوداع کے کچھ خوب صورت جملے "سب مسلمان بھائی........
