Xu Chenghong Ki Kahani
شو چینگ ہونگ کی کہانی
چین میں ان دنوں ایک ایسی شادی کی خبریں پوری دنیا میں گردش کر رہی ہیں جس نے لاکھوں لوگوں کے دلوں کو چھو لیا ہے۔ یہ شادی کسی امیر کاروباری شخصیت، فلمی ستارے یا مشہور سیاست دان کی نہیں تھی بلکہ ایک 24 سالہ ایسے نوجوان کی تھی جس کے پاس اپنا کہنے کے لیے چند رشتے دار بھی موجود نہیں تھے۔ اس نوجوان کا نام شو چینگ ہونگ (Xu Chenghong) بتایا جاتا ہے۔ اس کا تعلق چین کے صوبے یونان کے ایک چھوٹے سے دیہی علاقے سے ہے۔
اس نوجوان کی زندگی کی کہانی بچپن ہی سے محرومیوں اور مشکلات سے بھری ہوئی تھی۔ جب وہ صرف تین سال کا تھا تو اس کے والد بیماری کے باعث انتقال کر گئے۔ ابھی وہ اس صدمے سے سنبھلا بھی نہیں تھا کہ دو سال بعد اس کی والدہ نے دوسری شادی کر لی۔ یوں وہ اور اس کا بڑا بھائی اپنی دادی کے سہارے رہ گئے۔ لیکن قسمت کو شاید ان بچوں پر ابھی مزید آزمائشیں آزمانی تھیں۔ دو سال بعد ان کی دادی بھی بیماری کے باعث دنیا سے رخصت ہوگئیں۔
اب ان دونوں بھائیوں کے پاس ایک دوسرے کے سوا کوئی قریبی سہارا نہیں تھا۔ رشتے داروں کی مدد سے دونوں نے زندگی کا سفر جاری رکھا۔ غربت اور حالات کی وجہ سے دونوں بھائیوں کو کم عمری ہی میں تعلیم چھوڑنا پڑی۔ انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے محنت مزدوری کرنا پڑی۔ کبھی سامان کی ترسیل کے گوداموں میں کام کیا، کبھی فرنیچر اور صوفے بنانے کی ورکشاپوں میں مزدوری کی اور کبھی دوسرے چھوٹے موٹے کام کیے۔
زندگی کا ایک ایک دن محنت کرتے ہوئے گزرتا رہا۔ پھر اس کی زندگی میں محبت آئی۔ اس نوجوان کی ملاقات ایک لڑکی سے ہوئی جس کا نام لوو چوئی بتایا جاتا ہے۔ دونوں کی دوستی ہوئی اور پھر یہ دوستی محبت میں بدل گئی۔ تقریباً تین سال تک دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رہے اور بالآخر انہوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
اس نوجوان نے اپنی ہونے والی بیوی سے شادی کے لیے بہت محنت کی۔ اس نے اپنی آمدنی میں سے تھوڑا تھوڑا پیسہ بچایا اور تقریباً ایک لاکھ سڑسٹھ ہزار چینی یوآن جمع کر لیے تاکہ اپنی شادی کے اخراجات پورے کر سکے۔ اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق انتظامات کیے۔ شادی کی تاریخ 31 اکتوبر 2026ء مقرر ہوئی۔ لیکن جیسے جیسے شادی کا دن قریب آنے لگا، اسے ایک بات پریشان کرنے لگی۔
اس کے خاندان میں اب........
