Taleem Yafta Aurat Se Khofzada Aur Complex Ka Shikar Muashra
تعلیم یافتہ عورت سے خوف زدہ اور کمپلیکس کا شکار معاشرہ
یہ ہمارے سماج کا ایک المیہ بھی ہے اور سچائی بھی کہ ہم ترقی، تعلیم اور شعور کی باتیں تو بڑے فخر سے کرتے ہیں، مگر جب یہی شعور ایک عورت کے وجود میں ڈھل کر ہمارے سامنے آتا ہے تو ہم اسے قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ، باہمت عورت محض ایک فرد نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک فکر، ایک سوال اور ایک تبدیلی کی علامت ہوتی ہے اور یہی علامت اس معاشرے کے لیے خوف کا باعث بن جاتی ہے جو صدیوں سے جمود اور یکطرفہ طاقت کے نظام پر قائم ہے۔
یہ خوف دراصل عورت کی ذات سے نہیں بلکہ اس کے اندر پیدا ہونے والے شعور سے ہوتا ہے۔ جب عورت تعلیم حاصل کرتی ہے تو وہ صرف کتابی علم نہیں سیکھتی بلکہ وہ اپنے حقوق، اپنی حیثیت اور اپنی قدر کو پہچاننے لگتی ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگتی ہے کہ زندگی کے فیصلے صرف اس پر مسلط نہیں کیے جا سکتے بلکہ اسے بھی اپنی رائے دینے اور اپنی راہ چننے کا حق حاصل ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں سے معاشرے کی بے چینی شروع ہوتی ہے۔
ایسا معاشرہ جو مردانہ بالادستی کو اپنی بنیاد سمجھتا ہو، وہاں عورت کی خودمختاری ایک چیلنج بن جاتی ہے۔ باہمت عورت جب سوال اٹھاتی ہے، چاہے وہ تعلیم کے حق پر ہو، شادی کے فیصلے پر ہو یا اپنے کیریئر کے انتخاب پر، تو اسے باغی، نافرمان یا "حد سے بڑھنے والی" قرار دے دیا جاتا ہے۔ درحقیقت یہ الفاظ اس معاشرے کے خوف کی ترجمانی کرتے ہیں، جو اپنی پرانی روایات کے ٹوٹنے سے ڈرتا ہے۔
ہمارے ہاں ایک اور پہلو بھی بہت........
