menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

War And Peace

15 0
12.04.2026

عالمی منظر پر بیشتر اوقات انہونیاں، غیرمتوقع واقعات اور اچانک نمایاں ہونے والے کردار تاریخ کا دھارا بدلنے کا باعث بن جاتے ہیں۔ امریکا ایران جنگ جس قدر غیرمتوقع تھی، اس کی جنگ بندی میں پاکستان کا بطور مصالحت کار اور مذاکرات میزبان کردار اتنا ہی غیرمتوقع تھا۔ اپنوں پرایوں نے سوچا بھی نہ تھا کہ یوں دنیا بھر کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز رہیں گی۔

جنگ کے دوران پاکستان مسلسل کوشاں رہا کہ جنگ کے شعلے مزید نہ پھیلیں اور مصالحت کی کوئی صورت نکل آئے۔ دو ہفتے قبل پاکستان نے ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مل کر بیک چینل سفارتکاری کو موقع دینے کی کوشش کی۔

اس سارے عمل کے دوران چین کی بالواسطہ سپورٹ بھی شامل حال رہی۔ 15 روزہ جنگ بندی کا اعلان وزیراعظم شہباز شریف نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کیا، امریکا اور ایران نے اس کی تصدیق کی اور پاکستان کی توصیف کی۔ یہ ایک تاریخی لمحہ تھا، پاکستان جسے اس کے پڑوسی ملک اور چند دیگر ممالک نے ہمیشہ سفارتی تنہائی اور دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی، اسی پاکستان نے دنیا کی سپر پاور، علاقے کی ایک مضبوط پاور اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان امن کا راستہ نکالنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ بطور پاکستانی یہ ملک، قوم اور عوام کے لیے فخر کا عظیم لمحہ تھا۔

جنگ بندی کی شرائط کے مطابق پہلی بار امریکا اور ایران کے درمیان۔ بالواسطہ (یا شاید براہ راست مذاکرات) کی صورت پیدا ہوئی ہے۔ بالواسطہ مذاکرات ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں لیکن امریکا کی طرف سے پہلی بار نائب صدر وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

ان مذاکرات سے امید کی جانی چاہیے کہ امن کو راستہ ملے گا اور جنگ کا جن بوتل میں واپس بند کرنے کی کوئی صورت نکلے گی۔ اس دوران بقول شخصے........

© Daily Urdu