menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mufti e Azam Ke Fatwa Ka Intizar Hai

28 0
21.08.2026

مفتی اعظم کے فتویٰ کا انتظار ہے

نہیں معلوم کہ مفتی اعظم عوامی مشکلات سے آگاہ بھی ہیں یا نہیں لیکن گمان غالب ہے کہ آج کی گلوبل ولیج میں وہ کس طرح ملکی حالات سے لا تعلق رہ سکتے ہیں، ان کے علم میں یقیناََ ہوگا کہ اس ملک کی قریباً45 فیصد آبادی خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، بین السطور اس کا مطلب یہ ہوا، سماج کی اس کلاس کی رسائی بنیادی ضروریات تک نہیں ہے، وہ صرف دو وقت کی روٹی کھا کرسوجانے والوں میں سے ہے، نہ تو انہیں کسی تفریح سے کوئی غرض ہے، نہ ہی ہوٹلنگ ان کے بچوں کا مقدر ہے، کسی بڑی سواری اور جہاز کا سفر ان کے نصیب میں کہاں، مفتی جی یہ بھی بخوبی جانتے ہونگے، قریباً14کروڑ آبادی غذائی قلت کا شکار ہے، پھل کھانا، دودھ پینا اور انڈہ ناشتے کا حصہ ہونا ان کا خواب تو ہو سکتا ہے، مگر حقیت نہیں۔

ریاست کے ہر صوبہ میں لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں، انصاف کی فراہمی کا معاملہ آپ سے بہتر کون جانتا ہے، جب پارلیمنٹ کے اراکین یہ اعتراف کرتے ہوں کہ بغیر رشوت دیئے کوئی سرکاری کام ہونا ممکن نہیں، اعلی افسر شاہی، عدلیہ اور عام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے، غربت کی وجہ سے ایک گھر اور مکان میں اوسطاً10 سے12افراد رہنے پر مجبور ہیں، ان خاندانوں کی ذہنی کیفیت کیا ہوگی، آپ بہتر سمجھ سکتے ہیں، سودی نظام روا رکھا جارہا ہے، تھانوں میں خواتین کو تشدد کرکے ہلاک کرنے کی شکایات ہیں، ملک کی اقلیت کے پاس وسیع تر قومی وسائل ہیں، بے روزگاری نے نوجوانان کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔

جاگیر........

© Daily Urdu