menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jamaat e Islami Ki Parliament

38 0
11.09.2026

جماعت اسلامی کی پارلیمنٹ

حلقہ احباب میں سے ایک آٹو مارکیٹ میں کام کرتے ہیں، بر سبیل تذکرہ پوچھا کہ کاروبار کیسا چل رہا ہے، گویا ہوئے چار ماہ سے صورتحال مایوس کن ہے، پڑول کی روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی قیمتیں اسکی بڑی وجہ ہے، جسکی فرد کی کمائی حلال ہے، وہ باامر مجبوری گاڑی نکالتا ہے، پھر اوپر سے مہنگائی اتنی ہے، مشکل وقت آن پہنچا ہے، دوسرا روزگار کے مواقع بھی محدود ہیں، گھر کا ایک فرد کمانے والا ہو تو معاملہ اور بھی سنگین ہو جاتا ہے، لگتا ہے ترقی اور خوشحالی کا عمل رکا ہوا ہے، جب گاڑیاں نہیں چلیں گی تو کام نہیں نکلے گا، ہمارا روزگار تو ان سے وابستہ ہے۔

بقول ان کے پٹرول ایسی آٹیم ہے جس کے اثرات ضروریات زندگی پر پڑتے ہیں، جن سے گھر کا چولہا چلتا ہے، سفر بھی مہنگا ہو جاتا ہے، ارباب اختیار کے دورے بھی بیرون ملک سے سرمایہ کاری لانے میں ناکام نظر آتے ہیں، ان کا خیال ہے، سرکار اگر پٹرول پر غیر ضروی ٹیکس کم کرے، تو بھی عوام کو ریلیف مل سکتا ہے، یہ اضافی ٹیکس دراصل لیوی ہی تو ہے، جس کی آگاہی امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان دے اور اسکے، خاتمہ کے لئے سراپا احتجاج ہیں، وہ گویا ہوئے کہ نجی ٹی وی پر ان کی گفتگو سن رہا تھا کہ 2025 میں موجودہ پارلیمنٹ نے لامحدود لیوی لگانے کی اجازت سرکار کو دی، کس قدر المیہ ہے کہ ایک لیٹر پر ایک سو روپئے کے قریب فی لیٹر لیوی ٹیکس لیا جارہا ہے، سماج کے وہ افراد جو زکوۃ کے مستحق ہیں وہ بھی یہ ٹیکس روزانہ کی بنیاد پر دیتے ہیں، مہنگا پٹرول اس کے علاوہ ہے، موٹر سائیکل تو عام........

© Daily Urdu