menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Digital Crime Ka Sad e Baab

46 0
14.08.2026

ڈیجیٹل کرائم کا سد باب

مدینۃ اولیاء کی نئی سوسائٹی کی جانب جاتی سٹرک کے چوراہی پر فروٹ اور سبزی کی دوکان پر اکثر رش دیکھنے کو ملتا تھا، خریداری کے وقت دوکاندار سے بھی حال احوال ہو جاتا، اس کے مالک قدرے بذرگ مگر ہردم متحرک رہتے، انکی سروس کا آغاز سورج نکلنے سے قبل ہوجاتا اور رات دیر تک وہ سبزی اور پھل فروخت کر رہے ہوتے، انکی معاونت ان کے ملازم اور صاحب زادہ کرتے، بودوباش سے یہ بزرگ نیم خواندہ معلوم ہوتے، وہ صرف حساب کتاب کرنا ہی جانتے تھے، کئی دفعہ یہاں سے گزر ہوا تو انکی دوکان کو بند پایا، انکے پڑوسی سے ایک روز پوچھ ہی لیا کہ سبزی والے بابا جی کی دوکان بند کیوں ہے، دوکاندار نے جواب دیا کہ وہ دوکان چھوڑ گئے ہیں، چلتاہوا اچھا کاروبار نجانے کیوں چھوڑ دیا، پتہ نہیں جی کیوں، کافی دنوں سے انکی دوکان بند ہے، ایک روز پھر اس طرف جانا ہوا، تو ایک ٹھیلے پر فروٹ فروخت کرتے ہوئے یہ بزرگ مل گئے، بلا توقف یہ سوال داغ دیا کہ آپ نے دوکان چھوڑ دی، آپ کا تو اچھا بھلا کام تھا، بزرگوں نے ٹھنڈی آہ بھری، کہنے لگے بس جی لڑکے نے کاروبار ڈبو دیا، کیا دھوکہ ہوگیا یا سودا بڑا کر بیٹھے۔

نہیں جی، ہمیں تو موبائل لے بیٹھا، وہ کیسے میرے بیٹے نے اس پر جوا کھیلنا شروع کر دیا، پہلے تو جیتا پھر رقم ہار بیٹھا، لالچ میں آکر پھر اس نے رقم لگا دی، یوں کبھی جیت اور کبھی ہار ہوتی، اب اس نے دوکان میں دلچسپی لینی کم کر دی، جلد از جلد امیر ہونے کے چکر میں بڑی رقم لگا کر ہار........

© Daily Urdu