Zindagi
پرانی کتابوں کا عاشق ہوں میں، خاص طور پر جب کتاب ظاہر و باطن دونوں لحاظ سے قدیم ہو۔ چند روز قبل "زندگی" ہاتھ آئی، چوہدری افضل حق کی تصنیف ہے، چوہدری افضل حق (وفات: 1942ء) تقسیم سے قبل کے دانش ور اور خطیب و ادیب تھے، محکمہ پولیس میں ملازم تھے، تحریک خلافت کے دنوں میں ملازمت چھوڑ دی، سیاست میں جا شامل ہوئے، اس دوران گورکھ پور جیل میں ایک سال کی قید کاٹی، بعد ازاں عطا اللہ شاہ بخاری کے حلقہ نشین ہو گئے۔
جواہرات، محبوب خدا اور میرا افسانہ بھی ان کی مقبول کتابیں ہیں۔ "زندگی" اپنی نوعیت کی واحد یا پہلی تصنیف نہیں، اس سے قبل بھی بڑے درجے کے بعض ادیب اسی قبیل کے شاہ کار پیش کر چکے ہیں (جن کی کچھ کچھ بازگشت اس کتاب میں بھی سنائی دیتی ہے)۔
یہ ایک روحانی سفر کی روئیداد ہے جہاں شاعر عالم برزخ میں نیک اور ناپاک روحوں سے ملاقات کرتا ہے اور اقسام کی نیک و ناپاک روحیں اپنی اپنی سرگزشت بیان کرتی ہیں، آخر میں دوزخ و بہشت کا مشاہدہ بھی کروایا جاتا ہے۔
مقدمہ چراغ حسن حسرت نے لکھا ہے۔
جس میں لکھتے ہیں: "بظاہر زندگی کا انداز اطالوی شاعر ڈانٹے کی مشہور تصنیف "ڈیوائنا کامیڈیا" سے ماخوذ معلوم ہوتا ہے اور جن لوگوں کی نظر سے فتوحات مکیہ کے وہ ابواب نہیں گزرے جن میں شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نے اپنی سیاحت میں عالم علوی کی کیفیت بیان کی ہے وہ یقیناََ اسے ڈیوائنا کامیڈیا کی صدائے بازگشت سمجھیں گے۔ لیکن اہل نظر کے نزدیک یہ انداز ایک مسلمان اہل قلم کے لیے اس قدر اجنبی نہیں کہ اسے ڈانٹے کا شرمندہ احسان ہونا پڑے۔ اس کے علاوہ "ڈیوائنا کامیڈیا" اور "زندگی" کو ایک دوسرے سے وہ تعلق ہے جو مغرب کو مشرق سے"۔ (صفحہ: 08)
جب کہ کتاب کے شروع میں دو صفحات کا دیباچہ ہے جو مصنف کے قلم سے ہے اور ان سطور سے شروع ہوتا ہے: "زندگی کی تصنیف کا محرک نہ تقابل کا خیال تھا نہ کسی سے مسابقت مد نظر تھی۔ گورکھ پور جیل میں میری قید کی........
