menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tibb e Arab Ki Tareekh

21 0
06.05.2026

طب کی ابتدا کیسے ہوئی اس بارے میں مورخین کے دو گروہ ہیں، پہلا اسے الہامی مانتا ہے یعنی وحی و الہام طب کا منبع ہے، بقراط اسی نظریے کا قائل تھا، ابو جابر مغربی نے اس فن کو الہامی ثابت کرنے کے لیے کئی دلائل دیے ہیں مثال کے طور پہ حضرت سلیمانؑ منطق الطیر (پرندوں کی بولی) کے ساتھ منطق العقاقیر (جڑی بوٹیوں کی بولی) سے بھی آگاہ تھے اور پودوں سے ان کے خواص دریافت فرما لیا کرتے تھے، مسلمانوں کے ساتھ کئی دوسری قومیں بھی طب کو کشفی مانتی ہیں جیسا کہ یہودیوں کے عقائد میں ہے کہ طب کا علم اللہ تعالی نے حضرت موسیؑ پر وحی کیا، ہندو جوگی کہتے ہیں دیوالی کی رات جڑی بوٹیاں بولتی ہیں اور اپنے فوائد بیان کرتی ہیں۔

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ادریسؑ نے (جنہیں یونانی ہرمس اول کہتے تھے) طوفان نوح سے پہلے تمام علوم حاصل کر لیے تھے جن میں ایک طب بھی تھا، ادریسؑ پیغمبر ہونے کے ساتھ ہیت دان اور طبیب بھی تھے، آپ پر حکمت و ہیت کے راز کھول دیے گئے تھے مثال کے طور پر آسمان کی ساخت کس مادے سے ہوئی! ستارے کہاں سے آئے! ماہ و سال کا تعین کیوں کر کیا جائے! وغیرہ، اگر یہ علوم ان پر نہ کھولے جاتے تو دنیا محض عقل سے نہ پہچان سکتی تھی، ادریسؑ نے پوری دنیا کی سیاحت کی تھی، شاگرد بارہ ہزار تھے، مرنے کے بعد ان کی قبر پر قندیلیں روشن کی جاتی تھیں، (واضح ہو یہ تاریخی روایات ہیں)، آخری بات یہ کہ بقراط و جالینیوس کا قول ہے "جب دنیا فلسفہ کو الہامی علم مانتی ہے تو کیوں نہ فن طب کو بھی الہامی مانا جائے"۔

دوسرا گروہ برخلاف ہے، یہ طب کو قیاسی مانتا ہے، اس کے مطابق جب سے انسان ہے جراثیم بھی ہیں، اول اول جب انسان بیمار ہوا تو تجرباتی کوششوں سے علاج ایجاد کر لیا، ان مورخین کے نزدیک اسقلی بیوس پہلا شخص تھا جس نے فن شریف کی داغ بیل ڈالی، اسقلی بیوس حضرت ادریسؑ کا شاگرد تھا، اس کے سن پیدائش، جاء پیدائش اور وفات کے بارے میں اچھا خاصا اختلاف ہے، یونانی اسے "رب الشفا" مانتے تھے، پرستش بھی کرتے تھے، نوے برس عمر پائی، ابتدائی پچاس سیر و سفر میں اور آخری چالیس برس علم و عمل میں بسر کئے، یونانی شاعر ہومر نے ایک نظم میں اس کی تعریف کی تھی، یونان میں جہاں کہیں وبا پڑتی اس کی پوجا شروع ہو جاتی، مختلف مقامات پر اس کے نام کے دو صد عبادت خانے تعمیر کیے گئے، سمندر میں مجسمہ رکھا گیا، مریض سر جھکاتے، تندرستی کی مرادیں مانگتے وغیرہ، اسقلی بیوس کی وفات کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک ستون پر بیٹھ کر آسمان کی طرف اڑ گیا۔

تدوین طب کیسے ہوئی! یہ بھی دلچسپ........

© Daily Urdu