menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jugar Muradabadi Ki Toba

39 0
05.10.2026

جگر مرادآبادی کی توبہ

بیسویں صدی کے نصف اول میں مقبول ہونے والے ایک بڑے شاعر حضرت جگر مراد آبادی ہیں۔ آپ کو رئیس المتغزلین اور شہنشاہِ غزل بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا مشہور شعر ہے

طولِ غم حیات سے نہ گھبرا اے جگر

ایسی بھی کوئی شب ہے جس کی سحر نہ ہو

جگر صاحب اپنی خوش فکری اور خوش بیانی کے باعث بہت سوں پر بازی لے گئے۔ بلکہ یہ کہا جائے کہ دستِ قدرت نے شہرت و ناموری کا تاج جگر صاحب کے سر پر سجایا تو مبالغہ نہ ہوگا۔ آپ کی شاعری خوش آہنگ تھی، شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت بھر میں ان کا طوطی بولتا تھا۔ راقم انہی کی شراب نوشی سے متعلق کچھ چشم کشا انکشافات پیش کر رہا ہے۔

جگر کا پیدائشی نام "علی سکندر" تھا۔ مرادآباد میں پیدا ہوئے اور وہیں تعلیم پائی۔ ابتدائی تعلیم تو حاصل کر لی لیکن لااُبالی طبیعت کی وجہ سے اور کچھ گھریلو حالات کی خرابی کے باعث میٹرک نہ کر سکے۔ البتہ اپنے ذاتی شوق اور دستور کے موافق گھر میں ہی فارسی پڑھ لی۔

جگرمرادآبادی نے ابتدائے شباب سے ہی شاعری اور شراب نوشی شروع کر دی۔ حقیقت یہ ہے کہ جگر صاحب برصغیر پاک و ہند میں اپنی انہی دو باتوں کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ شاعر ایسے تھے کہ ان کا کلام عشق و محبت کا سچا آئینہ دار شمار ہوتا اور شراب نوش ایسے کہ لوگ مشاعرے کے بعد اُٹھا کر گھر لاتے۔ بلانوشی کے سبب وہ ہوش میں نہ ہوتے۔ انہی کا ایک شعر ہے ؎

پینے کو تو بے حساب پی لی

اب ہے روزِ حساب کا دھڑکا

جگر صاحب کے ذاتی کردار میں ایک ہی خامی تھی کہ وہ بلانوش تھے، ورنہ طبیعت میں غیرت و حیا کی کمی نہ تھی۔ محفل میں ہمیشہ نظریں نیچی کرکے بیٹھتے۔ شریکِ محفل مستورات کی طرف قطعاً متوجہ نہ ہوتے۔ صاف دل اور صاف باطن تھے۔ سخاوت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ مہمان کے آنے سے خوش اور جہاں تک ہو سکتا، اُس کا اکرام کرتے۔

اکثر لوگوں کو یہ غلط فہمی رہی کہ جگر کی خوبصورت غزلیں اُن کی کثرتِ مے نوشی کا نتیجہ ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ جگر نے شراب نوشی سے توبہ کے بعد جو غزلیں کہیں، وہ اُن غزلوں سے کہیں زیادہ فائق ہیں جو پہلے کہی گئیں۔ توبہ کے بعد کہی گئی غزلوں میں خاص قسم کا سوزوگداز اور کیف و مستی پائی جاتی ہے۔ جگر نے ایک مرتبہ کہا تھا "میں شراب نوشی کے بعد کئی کئی گھنٹے روتا ہوں اور شعر میں نے کہے ہیں شراب نے نہیں"۔ رشید احمد صدیقی بیان کرتے ہیں کہ حالتِ خمار میں بھی جگر کے منہ سے کوئی ناشائستہ بات اور قابلِ گرفت جملہ نہ نکلتا۔ وہ شراب کے نشے میں بڑے رکھ رکھائو کے قائل تھے۔ جب نشہ زیادہ گہرا ہوجاتا تو چپ چاپ ایک طرف ہوجاتے اور کسی سے کلام نہ کرتے۔ ایسے حال میں کوئی دین یاعلمہٰ دین کے خلاف کوئی بات کرتا تو حال سے بے حال ہوجاتے اور بدمستی کا پورا زور اُس پر صرف کرتے۔ اس طرح........

© Daily Urdu