menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aye Mere Pyare Watan

20 0
14.08.2026

ایک عجیب سی بات ہے کہ جب بیرونِ ملک رہنے والے پاکستانی دنیا کے دوسرے معاشروں کو قریب سے دیکھتے ہیں تو ان کی اپنے وطن سے محبت کم ہونے کے بجائے اور بڑھ جاتی ہے۔ وہ ترقی کو دیکھتے ہیں، نظم و ضبط کو دیکھتے ہیں، قانون کی بالادستی، شہری وقار، صاف راستے، مضبوط ادارے اور محفوظ زندگی دیکھتے ہیں اور پھر نہ جانے کیوں دل میں سب سے پہلے پاکستان آتا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ ہمارا وطن بھی ایسا بن جائے جہاں اصلاحات محض کاغذوں پر نہ اتریں بلکہ زندگیوں میں دکھائی دیں۔ جہاں ترقی صرف چند بلند عمارتوں اور کشادہ شاہراہوں کا نام نہ ہو بلکہ ہر شہر، ہر گاؤں اور ہر گلی تک پہنچنے والی خوشحالی ہو۔ جہاں بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہو، شہر خوب صورت ہوں، سڑکیں محفوظ ہوں، پبلک ٹرانسپورٹ باوقار ہو، صفائی کو عادت اور شہری ذمہ داری کو کردار کا حصہ سمجھا جائے۔

ایسا پاکستان جہاں تعلیمی نظام منظم ہو، جہاں بچے صرف سبق یاد نہ کریں بلکہ سوال کرنا، سوچنا، اختلاف کرنا اور سچ کو پہچاننا بھی سیکھیں۔ جہاں یونیورسٹی سے نکلنے والا نوجوان صرف روزگار کا متلاشی نہ ہو بلکہ اپنے معاشرے کی تعمیر کا شعور بھی اپنے ساتھ لے کر نکلے۔

ایسا پاکستان جہاں انصاف صرف ایک لفظ نہ ہو۔ جہاں کسی مظلوم کی فریاد فائلوں کے نیچے دفن نہ ہو جائے، جہاں مقدمات نسلوں تک نہ چلیں، جہاں جرم کرنے والا اپنے اثر و رسوخ کے پیچھے نہ چھپ سکے اور جہاں کسی بے گناہ کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں اپنی عمر........

© Daily Urdu