Zorain Nizamani Ghalat Nahi Keh Raha
والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا، ان کے ہاتھ میں جوتا تھا اور انہوں نے لوگوں کے سامنے اس ہتھیار کا بے لاگ استعمال شروع کر دیا، میں نے سڑک پر دوڑ لگا دی، میں جانتا تھا والد صاحب میرے پیچھے بھاگ نہیں سکیں گے، انہیں سڑک پر بھاگنا اچھا نہیں لگتا تھا، میں ان سے بچنے کے لیے ہمیشہ یہ راستہ اختیار کرتا تھا، مجھے بھاگتا دیکھ کر والد نے تاک کر جوتا پھینکا، وہ سیدھا میری گردن پر لگا اور میں چند لمحوں کے لیے ستاروں کے جہان میں چلا گیا لیکن میرے پاس زیادہ وقت نہیں تھا، میں اگر رک جاتا یا گرجاتا تووہ میرے سر پر پہنچ جاتے اور پھر پورا بازار میرا تماشا دیکھتا، میں نے چند سیکنڈز میں دماغ کے سارے ستارے جھاڑے اور دوڑتا چلا گیا۔
میں پچھلے سال تک اسے ظلم سمجھتا رہالیکن پھر میں نے ایک ڈاکومنٹری دیکھی اور مجھے اس درندگی کی وجہ سمجھ آ گئی مگر اس ڈاکومنٹری سے قبل میں آپ کو اپنے ایک استاد کے بارے میں بھی بتاتا چلوں، چند سال قبل میرے ہائی سکول کے ایک استاد میرے پاس تشریف لائے، میں نے ان کا بہت احترام کیا، جی جان سے خدمت کی اور بڑی عزت اور مان کے ساتھ ان کا کام کرکے انہیں رخصت کیا لیکن میرا دل جانتا تھا یہ سب کچھ کرنے کے لیے مجھے اپنے اوپر کتنا ضبط کرنا پڑا۔
میرے اس استاد نے بچپن میں میرے ساتھ بہت ظلم کیا تھا، یہ مجھے صرف سوال کرنے کے جرم میں پورے سکول کے سامنے گرائونڈ میں لٹا کر یا برآمدے میں مرغا بنا کر جوتے اور سوٹیاں مارتے تھے، اس مار اور بے عزتی نے میری انا، عزت نفس اور اعتماد تینوں قتل کر دیے، میں آج بھی سوال کرتے وقت گھبرا جاتا ہوں، میرے دماغ میں آج بھی یہ خوف بیٹھا ہوا ہے، میرے سوال پر پہلے میرا مذاق اڑایا جائے گا اور پھر مجھے مرغا بنا کر جوتے مارے جائیں گے، یہ خوف میرے اس ماسٹر صاحب کی دین ہے جب کہ میرے دوسرے خوف میرے بزرگوں کی مہربانی ہے، مثلاً میں آج بھی جب کھل کر ہنسنے لگتا ہوں تو اپنی گردن پر ہاتھ رکھ لیتا ہوں کیوں کہ میرے بچپن میں کھل کر ہنسنا یا دانت نکالنا جرم تھا اور مجھ سے جب بھی یہ جرم سرزد ہوتا تھا۔
میرا کوئی نہ کوئی بزرگ میری گردن کی بیک سائیڈ پر تھپڑ مار کر پوچھتا تھا "دانت کیوں نکال رہے ہو، تمہیں شرم نہیں آتی؟"اسی طرح میں آج بھی جب اپنی مرضی کرنے لگتا ہوں، نئی چیز ٹرائی کرتا ہوں یا اپنی خوشی کا بندوبست کرتا ہوں تو خوف زدہ ہو جاتا ہوں، مجھے محسوس ہوتا ہے کسی طرف سے ابھی کوئی جوتا آئے گا اور میری پیٹھ یا منہ پر لگے گا اور میں پیچھے گر جائوں گا، میرا یہ خوف بھی میرے بزرگوں کی دین ہے، کیوں؟ کیوں کہ چالیس سال کی عمر تک میں نے جب بھی خوش ہونے کی کوشش کی یا کوئی نئی چیز سیکھنے کا فیصلہ کیا تو مجھے پھینٹا بھی پڑا، میری بے عزتی بھی ہوئی اور میرا مذاق بھی اڑایا........
