Suger Ke Mareezon Ke Liye
گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا، میں ایک دن سکرولنگ کر رہا تھا اور میرے سامنے اچانک ایک ویڈیو آ گئی، درمیانی عمر کا ایک شخص میز پر بیٹھا دعویٰ کر رہا تھا "میں نے اپنی شوگرکی بیماری سال بھر میں ریورس کر لی" وہ بتا رہا تھا میں نے خوراک تبدیل کی اور معجزہ ہوگیا اور میں اب دو سال سے انسولین یا کوئی گولی نہیں لے رہا، میں نے قہقہہ لگایا اور ویڈیو کو مسترد کرکے آگے نکل گیا۔
میں 1994ء سے شوگر کا مریض تھا، میں نے 30 برسوں میں ایسے سیکڑوں دعوے سنے تھے، میں نے کئی حکماء، ڈاکٹروں اور عطائیوں کی باتوں پر یقین بھی کر لیا تھا اور اس کا بھاری نقصان برداشت کیا چناں چہ میں نے آخر میں صرف انسولین پر اکتفا کیا اور آرام سے زندگی گزارنے لگا، میں اب اس قسم کے دعوئوں کو فراڈ اور وقت کا زیاں سمجھتا تھا۔
میں چند دن بعد یہ ویڈیو بھول گیا مگر ایلگوردھم کی وجہ سے یوٹیوب نے دوبارہ یہ ویڈیو دکھا دی، میں اس دن فارغ تھا چناں چہ میں نے وہ ویڈیو پوری سنی، ویڈیو میں بات کرنے والے صاحب کا پورا نام زاہد عرفان تھا، وہ بائی پروفیشن وکیل تھے لیکن لاہور کے کسی پرائیویٹ ادارے میں کام کرتے تھے، میں نے ان کا فون نمبر تلاش کیا، انہیں فون کیا اور یوں میرا ان سے رابطہ ہوگیا، میں بیماری کے دوران درجنوں ماہر ڈاکٹروں سے ملا تھا لیکن میں نے محسوس کیا زاہد عرفان کے پاس شوگر کے معاملے میں ان سب سے زیادہ علم ہے، میں نے اس علم کی بنیاد پر انہیں گرو زاہد کہنا شروع کر دیا اور یہ آہستہ آہستہ گرو زاہد کے نام سے مشہور ہو گئے، میں نے ان کے کہنے پر امریکا کے ڈاکٹر ایرک برگ اور کینیڈا کے شوگر اسپیشلسٹ ڈاکٹر جیسن فنگ کو پڑھنا شروع کیا، پتا چلا شوگر کوئی بیماری نہیں، یہ لائف سٹائل کی غلطیوں کانتیجہ ہے، انسان اگر اپنا لائف سٹائل بدل لے، یہ خوراک میں احتیاط کرے، ایکسرسائز کرے۔
ڈسپلن کو زندگی بنا لے اور بلاوجہ ٹینشن سے پرہیز کرے تو یہ چند دنوں میں انسولین اور ادویات سے جان چھڑا سکتا........
