menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pale Blue Dot

38 0
16.06.2026

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری سائنس دان تھا، اس نے اپنی پوری زندگی ستاروں کی دنیا کو دے دی، وہ ان پر ریسرچ کرتا اور لکھتا رہا، 1934ء میں پیدا ہوا، خلا کی تعلیم حاصل کی اورہارورڈ یونیورسٹی کا پروفیسر ہوگیا، ناسا میں بھی کام کرتا تھا، اس نے 1970ء میں وویاگر۔ ون (Voyager-1) کے نام سے ناسا کے لیے حیران کن پراجیکٹ بنایا، یہ ایک مصنوعی سیارہ تھا جسے راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجنا تھا، اس پر کیمرہ لگا تھا اور اس نے سگنلز کے ذریعے زمین سے رابطے میں رہنا تھا لیکن اس سے کبھی واپس نہیں آنا تھا۔

اس کے دو مقصد تھے، یہ خلا کے بارے میں دنیا کو نئی معلومات دے اور دوسرا اگر کائنات میں کسی جگہ زندگی موجود ہے تو ان لوگوں کو زمین کے بارے میں اطلاع دی جائے، سیگن نے دوسرا مقصد پورا کرنے کے لیے بارہ انچ کی کاپر پلیٹ بنوائی، اس پر سونے کا پانی چڑھایا اور اس میں زمین کی تصویریں، آوازیں، موسیقی اور انسانوں کے بارے میں معلومات سٹور کر دیں، وویاگر۔ ون نے یہ پلیٹ لے کر خلا میں جانا تھا، یہ ایک منفرد اور مشکل منصوبہ تھا، ناسا نے بہرحال اس منصوبے کی منظوری دے دی۔

سیگن نے یہ تیار کیا اور پانچ ستمبر 1977ء کو اسے زمین سے رخصت کر دیا، اس نے اپنا سفر شروع کیا، یہ 1979ء میں مشتری (Jupiter) اور 1980ء میں زحل (Saturn) کے قریب پہنچ گیا اور ان کے چاند، دائروں اور ماحول کی تصویریں زمین پر بھجوادیں، یہ اس کے بعد 1990ء کے شروع میں ہمارے سولر سسٹم کی سرحد پر پہنچ گیا، 15 فروری کو اس نے اس سے باہر نکل جانا تھا، یہ اس وقت زمین سے چھ ارب کلومیٹر کی دوری پر تھا، سیگن اس وقت کینسر میں مبتلا ہو چکا تھا اور اس کی زندگی کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا، اس نے بیماری کے عالم میں ناسا سے رابطہ کیا اور عجیب سی فرمائش کر دی، اس کا کہنا تھا وویاگر ہمارے سولر سسٹم سے نکل رہا ہے، یہ اس کے بعد کبھی واپس آ سکے گا اور نہ ہم اس کے ذریعے اپنی زمین دیکھ سکیں گے، میں ایک مرتبہ اس کارخ موڑ کر سولر سسٹم کی حد سے زمین کی تصویر لینا چاہتا ہوں، یہ میری زندگی کی آخری خواہش ہے، ناسا کی انتظامیہ نے اس سے اتفاق نہیں کیا، ان کا کہنا تھا وویاگر۔ ون آگے دیکھنے کے لیے بنایا گیا ہے، ہم نے اگر ایک مرتبہ اس کا رخ موڑ دیا تو عین ممکن ہے یہ کبھی دوبارہ سیدھا نہ ہو سکے۔

دوسرا یہ سورج کے قریب ہے، یہ بھی ممکن ہے اس کا کیمرہ جل جائے اور یوں اربوں ڈالرز کا نقصان ہو جائے، سیگن نے انہیں بتایا میں نے وویاگر بناتے وقت اس میں واپس مڑنے کی گنجائش رکھی........

© Daily Urdu