Pakistan Ka Almiya (1)
شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری جنگ ہار گیا، باپ اور بیٹے کے درمیان ملاقات ہوئی اور شاہ جہاں نے باپ جہانگیر کا ہاتھ چوم کر اطاعت قبول کر لی جس کے بعد باپ اور بیٹے کے درمیان فیصلہ ہوا بیٹا (شاہ جہاں) اپنے دو بیٹے باپ (جہانگیر) کے حوالے کر دے گا، یہ بچے دادا کے پاس یرغمال رہیں گے تاکہ بیٹا (شاہ جہاں) دوبارہ باپ (جہانگیر) کے خلاف بغاوت کی گستاخی نہ کر سکے، سودا طے ہوگیا۔
ممتاز محل کو اپنے بیٹوں سے بے انتہا محبت تھی، اس نے بچے بچانے کی کوشش کی لیکن شاہی فوج آئی، ماں کی گود میں چھپے بچے کھینچ کر نکالے اور انہیں لے کر لاہور روانہ ہوگئی، جہانگیر چھٹیاں گزارنے کے لیے کشمیر جا رہا تھا، راستے میں موسم خراب تھا لہٰذا وہ لاہور میں رک گیا، شاہ جہاں کے دونوں بیٹوں دارالشکوہ اور اورنگ زیب کو دادا کے سامنے پیش کیا گیا، دارالشکوہ اس وقت 11 سال جب کہ اورنگ زیب کی عمر 8 سال تھی، یہ دونوں 1626ء میں لاہور میں بادشاہ کے دربار میں پیش کیے گئے، بچوں کے چہروں پر ماں سے جدائی، طویل سفر اور بادشاہ کا خوف تینوں جذبے موجود تھے، جہانگیر انہیں پہلی بار دیکھ رہا تھا، اس نے چند لمحے سوچا اور پھر دونوں پوتوں کو گلے لگائے بغیر ملکہ نور جہاں کے حوالے کر دیا اور ملکہ نے انہیں خواجہ سرائوں کی نگرانی میں دے دیا، جہانگیر اس کے بعد کشمیر کے لیے روانہ ہوگیا، راستے میں بیمار ہوا اور 1627ء میں اس کا انتقال ہوگیا۔
شاہ جہاں کو تخت کے لیے اپنے بھائی خسرو اور اس کے بیٹوں سے لڑنا پڑگیا، بھائی اور اس کے بیٹے بالآخر مارے گئے اور شاہ جہاں بادشاہ بن گیا جس کے بعد نور جہاں ملکہ سے غلام بن گئی اور دارالشکوہ اور اورنگ زیب کو رہائی نصیب ہوگئی، وہ دونوں آگرہ کے شاہی محل میں پہنچے تو ماں نے دیوانہ وار باہر آ کر اپنے بیٹوں کو گلے لگایا، وہ روتی جاتی تھی اور انہیں چومتی جاتی تھی، بیٹے بھی ماں کے ساتھ لپٹ کر دھاڑیں مار کر رو رہے تھے، ماں کا خیال تھا ہمارے دکھوں کا دور ختم ہوگیا، ہم اب "ہیپی فیملی" کی طرح مزے سے زندگی گزاریں گے لیکن یہ خیال چند دنوں میں غلط ثابت ہوگیا۔
بادشاہت دنیا کا سب سے مشکل کھیل ہوتا ہے، اس میں کوئی اپنا نہیں ہوتا، اس کھیل میں باپ سے بھی لڑنا پڑتا ہے، بھائی سے بھی اور بیٹوں سے بھی، شاہ جہاں بھی دن بہ دن بادشاہت کی دلدل میں دھنستا چلا گیا، ایک جنگ کے بعد دوسری جنگ اور دوسری کے بعد تیسری شروع ہو جاتی تھی یہاں تک کہ 1631ء میں ممتاز محل 14 ویں زچگی کے دوران فوت ہوگئی اور بادشاہ جنگلوں سے نکل کر تاج محل کی دیوانگی میں مبتلا........
