menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

House Of Sharif

70 0
26.02.2026

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف بنوایا تھا اور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا، بھٹو حکومت کی رخصتی "آپریشن فیئر پلے" کے نام سے آئی ایس آئی کا پلان تھا اور جنرل جیلانی اس کے آرکی ٹیکٹ تھے، میں اس آپریشن اور جنرل ضیاء الحق کے آرمی چیف بننے کی تفصیل آگے چل کر بیان کروں گا، ہم سردست بریگیڈیئر قیوم اور میاں نواز شریف کی سیاست میں انٹری تک محدود رہتے ہیں۔

جنرل جیلانی 1980ء میں پنجاب کے گورنر بنے، ان کے ساتھ ہی بریگیڈیئر قیوم نے گورنر ہائوس میں ڈیرے ڈال لیے، لاہور میں ان کا ذاتی گھر تھا لیکن وہ رہتے گورنر ہائوس میں تھے، گرمیوں میں ایبٹ آباد چلے جاتے تھے اور سردیاں گورنر ہائوس لاہور میں گزارتے تھے، وہ بہت زیرک، معاملہ فہم اور گہرے انسان تھے" میاں شریف کے ساتھ ان کا کشمیری کنکشن تھا، مارشل لاء کے بعد بریگیڈیئر قیوم نے پنجاب کے پہلے گورنر لیفٹیننٹ جنرل محمد اقبال سے سفارش کرکے شریف فیملی کو اتفاق فائونڈری واپس دلوائی تھی، شریف فیملی جرمنی سے مشینری امپورٹ کرتی تھی۔

لاہور میں اس زمانے میں جرمنی کا قونصل خانہ ہوتا تھا، جرمن قونصلر جنرل میاں شریف کا دوست تھا، وہ ان کی صلاحیت اور بزنس اپروچ سے متاثر تھا لہٰذا اس نے انہیں مشورہ دیا آپ نے اگر مستقبل میں اپنا کاروبار بچانا ہے تو پھر آپ اپنے کسی بیٹے کو سیاست میں داخل کر دیں، میاں شریف نے اس کے مشورے پر نواز شریف کو ائیرمارشل اصغر خان کی پارٹی تحریک استقلال میں شامل کر دیا، جنرل غلام جیلانی گورنر بنے اور بریگیڈیئر قیوم ان کے اختیارات استعمال کرنے لگے تو میاں شریف نے ان سے نواز شریف کے لیے درخواست کی۔

بریگیڈیئر قیوم نے جنرل جیلانی سے کہا اور جنرل جیلانی نے ڈی سی لاہور سعید مہدی کو نواز شریف کو گورنر ہائوس لانے کا حکم دے دیا اور یہ انہیں لارنس گارڈن سے کٹ میں گورنر ہائوس لے گئے اور جنرل جیلانی نے واک کرتے کرتے انہیں تین پورٹ فولیوز دے دیے، آپ جنرل جیلانی کی شہنشاہیت اور نواز شریف کا مقدر دیکھیے، گورنر نے اپنے پرانے دوست کی سفارش پر ایک ایسے عام سے نوجوان جسے یہ جانتے تک نہیں تھے کو وزیر خزانہ بنا دیا اور پھر اس شرط پر کہ یہ ڈی سی کو ون نمبر کی پلیٹ دے دے گا ایکسائز کاپورٹ فولیو بھی دے دیا اور ساتھ ہی کیوں کہ اس نے کرکٹ کی کٹ پہن رکھی ہے اسے سپورٹس بورڈ کی چیئرمین شپ بھی دے دی، کیا چھپر پھٹنا اسے نہیں کہتے؟

میاں نواز شریف نے اس چھوٹی سی اپارچیونٹی کو بہت بڑے موقع میں تبدیل کر دیا اور اپنے خاندان کو ہائوس آف شریف بنا دیا، یہ ان کا نصیب اور کمال تھا، پاکستان میں ان سے پہلے سیاست میں درجنوں بڑے اور بااثر خاندان تھے، میاں صاحب ان سب کو روند اور توڑ کر آگے نکل گئے، کیا یہ کمال نہیں؟

بہرحال بریگیڈیئر قیوم ان کے محسن تھے، میاں صاحب نے بعدازاں ان کا بہت خیال رکھا، انہیں دو بار سینیٹر بنایا اور ان کے ذاتی مسائل میں ان کا بہت خیال رکھا، بریگیڈیئر قیوم کے دو برادر نسبتی (سالے) بہت مشہور ہوئے، اعجاز رحیم مشہور بیوروکریٹ تھے، یہ کے پی........

© Daily Urdu