menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Farang Mein Aik Raat

51 0
23.06.2026

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے، وہ ٹائون سے کبھی باہر نہیں گئے تھے، ان کی پوری زندگی وانگ (Wang) میں گزر گئی، وہ چاول اور توفو بنا کر بیچتے تھے، یہ ان کا واحد ذریعہ آمدن تھا، ان کا آبشار کے ساتھ چھوٹا سا گھر تھا، وہ ان کی کل کائنات تھا لیکن پھر 1986ء میں وانگ گائوں میں "فورنگ" کے نام سے چینی زبان کی فلم بنی، فلم کی سٹوری ناول گوہوا (Gu-Hua) پر مبنی تھی، یہ دو میاں بیوی کی کہانی تھی جو چین کے انتہائی دور دراز گائوں میں رہتے تھے، چاول اور توفو کا سٹال لگاتے تھے اور مزے سے زندگی گزار رہے تھے لیکن پھر چین میں "ثقافتی انقلاب" آیا اور ان کا مشکل وقت شروع ہوگیا۔

مقامی لوگ جوڑے سے حسد کرتے تھے، انہوں نے ان کی شکایت کر دی، پولیس آئی، ان کا کاروبار بند کیا اور انہیں ایک دوسرے سے الگ کر دیا، وہ باقی زندگی ایک دوسرے کو ڈھونڈتے رہے، یہ ایک ٹریجک فلم تھی، یہ وانگ میں کیوں فلمائی گئی! اس کی وجہ فلم کا پروڈیوسرتھا، پروڈیوسر "زی جن" کسی زمانے میں وانگ گائوں سے گزرا تھا، اسے گائوں فلم کے پلاٹ کے مطابق لگا لہٰذا اس نے فلم وانگ میں فلما لی، فلم نہ صرف کام یاب ہوگئی بلکہ اس نے درجنوں نیشنل اور انٹرنیشنل ایوارڈ بھی لے لیے اور اس کے ساتھ ہی وانگ گائوں کا مقدر بھی بدل گیا، یہ چین اور پھر بین الاقوامی سطح پر مشہور ہوگیا، مقامی لوگوں نے فلم کی مقبولیت دیکھتے ہوئے گائوں کا نام وانگ سے فورنگ کر دیا جس کے بعد یہ چین کی بڑی سیاحتی منزل بنتا چلا گیااور مقامی لوگ امیر ہوتے چلے گئے۔

ان امیر لوگوں میں ہماری لینڈ لیڈی بھی شامل تھی، اس نے اپنے چھوٹے سے مکان کو توڑ کر چار منزلہ ہوٹل بنا لیا، نچلی دو منزلوں پر مساج پارلر ہے جب کہ اوپری دو منزلوں پر چار چار کمرے ہیں، کل آٹھ کمرے ہیں، ہوٹل کی بیک سائیڈ آبشار کی طرف کھلتی ہے جب کہ سامنے بازار ہے۔ میں اور ڈاکٹر عثمان سعید شام کے وقت فورنگ پہنچے، بارش ہو رہی تھی لیکن اس کے باوجود گائوں میں رش تھا، پوری دنیا سے سیاح آئے ہوئے تھے، ہم کہاں سے فورنگ پہنچے اور کیوں پہنچے، یہ بھی ایک دل چسپ داستان ہے، ڈاکٹر عثمان سعید فیصل آباد سے تعلق رکھتے ہیں، پیدائشی طور پر جلد کی بیماری (Xeroderma Pigmentosum) کے مریض ہیں۔

یہ خوف ناک بیماری ہے، دنیا میں اس کا کوئی علاج نہیں، ڈاکٹر عثمان بہادر انسان ہیں، یہ نہ صرف اس کا مقابلہ کر رہے ہیں بلکہ دنیا بھر میں اس بیماری کی آگاہی بھی دے رہے ہیں اور مریضوں کی مدد بھی کر رہے ہیں، یہ 2000ء میں........

© Daily Urdu