Dunya Ka Sab Se Bara Ghar
دنیا کا سب سے بڑا غار
چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی مقام ہے، یہ زیر زمین غاروں کا وسیع سلسلہ ہے، اسے دنیا کا سب سے بڑا "انڈر واٹر کیو سسٹم" کہا جاتا ہے، اس کا نام "ہونگ لانگ ڈونگ" ہے اور یہ اواتار مائونٹینز کے قریب واقع ہے، دنیا بھر سے ہر سال لاکھوں سیاح ان کی سیاحت کے لیے آتے ہیں، چین کے دوسرے سیاحتی مقامات کی طرح اس کی پارکنگ بھی وسیع اور دور تھی، وہاں سینکڑوں گاڑیاں کھڑی تھیں، ہم شام چار بجے پہنچے تھے، ساڑھے چار بجے آخری ٹیم غاروں میں بھجوائی جاتی ہے، ہم آخری سیاح تھے۔
غار کا دروازہ ٹکٹ گھر سے دس منٹ کی واک پر تھا، راستے میں دونوں سائیڈز پر لان، پارک اور جنگل تھے، درمیان میں قدیم پن چکیوں کے ماڈل بھی تھے، ان سے پانی بہہ رہا تھا اور ان کے گرد سیاح بیٹھے تھے جب کہ دائیں بائیں سرسبز پہاڑ تھے، ہم گیٹ پر پہنچے تو سیاحوں کی آخری ٹیم داخلے کے لیے تیار تھی، گائیڈ نے ہمیں سختی سے بتایا غار بہت وسیع اور "زگ زیگ" ہیں، آپ نے صرف میرے ساتھ رہنا ہے، آپ اگر خدانخواستہ دائیں بائیں ہو گئے تو گم ہونے کے چانسز ہیں اور آپ شاید اس کے بعد کبھی غاروں سے باہر نہ نکل سکیں۔
ہم نے صدق دل سے اسے یقین دلایا ہم پاکستانی ہیں اور ہم نے کبھی کسی گائیڈ کا ساتھ نہیں چھوڑا، ہم زبان سے یہ عرض کر رہے تھے لیکن اندر سے جانتے تھے یہ ساتھ صرف چند قدموں کا ہے اور یہ بیچاری اس کے بعد ہمیں ڈھونڈتی ہی رہ جائے گی اور وقت نے بہت جلد یہ سچائی ثابت کر دی، ہم اس سے الگ ہوئے اور آخر میں اس سے گیٹ پر ملاقات ہوئی، گائیڈ نے یہ بھی بتایا ہمیں اندر دو تین ہزار سیڑھیاں چڑھنی اور اترنی پڑیں گی، دوسرا اندھیرا بھی ہوگا اور آکسیجن بھی کم ہوگی لہٰذا بزرگ، کم زور ٹانگوں والے اور دل کے مریض اندر نہ جائیں۔
ہم نے اسے یقین دلایا ہمارا دل، ٹانگیں اور حوصلہ تینوں بلند اور شان دار ہیں اور ہم ابھی بزرگ بھی نہیں ہوئے، اسے ہماری باتوں پر یقین نہیں آیا لیکن ہم نے غار میں آدھ گھنٹے میں اس کا شک دور کر دیا۔ وہ غار شروع میں زیادہ دل چسپ نہیں تھے، دروازہ چھوٹا تھا، راہ داری تنگ تھی اور آدھ کلومیٹر تک وہاں کچھ بھی نہیں تھا لیکن جوں ہی راہ داری ختم ہوئی، ہمارے منہ سے بے اختیار وائو نکل گیا، غار اندر سے انتہائی وسیع تھا، اوپر آسمان کی طرح گول گنبد تھا اور نیچے بڑے سائز کی چٹانیں اور کیلشیم کاربونیٹ کی مختلف سائز کی فارمیشن تھیں، گنبد کو مختلف سمتوں سے فلڈ لائیٹس دے کر خوب صورت بنا دیا گیا تھا، چھت پر ملٹی میڈیا سے وسیع وعریض ڈریگن بنایا گیا تھا، ان غاروں کوییلو ڈریگن کیو بھی کہتے ہیں شاید اس لیے پہلے غار کی چھت پر ڈریگن کی تصویر بنائی گئی تھی، وہ تصویر کم و بیش سو ڈیڑھ سو میٹر بڑی ہوگی۔
ہمارا........
