menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Azadi Ki Hawa Chal Rahi Hai

51 0
14.05.2026

آزادی کی ہوا چل رہی ہے

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی، ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر چارلس ولیم کے ویٹنگ روم میں بوڑھے میاں بیوی بیٹھے تھے، یہ دونوں شکل اور حلیے سے مفلوک الحال، بیمار اور شکستہ دل دکھائی دیتے تھے، چارلس ولیم کی سیکرٹری نے بتایا "یہ بوڑھے کئی دنوں سے آ رہے ہیں، یہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں، میں نے ملاقات کی وجہ جاننے کی کوشش کی لیکن ان کا اصرار ہے یہ وجہ صرف آپ ہی کو بتائیں گے"۔

چارلس ولیم نے دفتر کے شیشے سے بوڑھے جوڑے کو دیکھا اور انکار میں سر ہلا دیا۔ سیکرٹری واپس مڑی لیکن وہ ابھی دروازے تک پہنچی تھی کہ صدرنے آہستہ سے کہا "انہیں بھجوا دو مگر انہیں بتا دینا میرے پاس صرف پانچ منٹ ہیں"۔ سیکرٹری نے شکریہ ادا کیا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گئی، تیس سیکنڈ بعد ادھیڑ عمر جوڑا ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر کے سامنے بیٹھا تھا، بوڑھے نے کپکپاتی آواز میں عرض کیا "ہم آپ کے کالج کو ڈونیشن دینا چاہتے ہیں"۔

بڑھاپے کی وجہ سے بوڑھے کے پھیپھڑے قابو میں نہیں تھے۔ چارلس ولیم نے مسکرا کر دونوں کے کپڑوں، حلیے اور میلے کچیلے ہاتھوں کی طرف دیکھا اور طنزیہ لہجے میں بولا "ڈونیشن کتنا؟" بوڑھے نے بڑھیا کی طرف دیکھا، بڑھیا صدرسے بولی "ایک ملین، دوملین، تین ملین حتیٰ کہ 10ملین ڈالرز، جتنا آپ چاہیں"۔ رقم کی مالیت سن کر سربراہ کا طنز مذاق میں بدل گیا اور اس نے پوچھا "مگر اس ڈونیشن کے بدلے ہمیں کیا کرنا ہوگا"۔ بوڑھے نے ایک لمحہ سوچا اور بولا "ہمارا بیٹا ٹائیفائیڈ کی وجہ سے جوانی میں مر گیا تھا، ہماری خواہش ہے آپ اپنا کوئی سکول اس کے نام منسوب کر دیں"۔

چارلس نے قہقہہ لگایا، گھڑی کی طرف دیکھا اور ہنستے ہوئے بولا "میرے معزز مہمانوں کا وقت ختم ہوگیا ہے، یہ ہمارے لیے ممکن نہیں، آپ اپنی پیش کش کے ساتھ واپس جا سکتے ہیں"۔ یہ سن کر بوڑھے اور بڑھیا کا رنگ غصے سے سرخ ہوگیا، وہ دونوں کھڑے ہوئے اور انہوں نے چارلس سے پوچھا "ہارورڈ جیسی یونیورسٹی بنانے کے لیے کتنا سرمایہ درکار ہوتا ہے؟" سربراہ نے فلک شگاف قہقہہ لگایا اور بولا "دنیا کے تمام پاگلوں کا سرمایہ جمع کر لیا جائے تو بھی اس یونیورسٹی کا ایک بلاک نہیں بن........

© Daily Urdu