menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Shukriya Pakistan

20 0
12.04.2026

بچپن میں ایک سنسنی خیز انگریزی ناول کا دلچسپ اردو ترجمہ پڑھا تھا۔ اس ناول "بے بس سائنسدان " کا مین کردار ایک بہت ہی قابل اور ذہین ایسا سائنسدان تھا جو برسوں تک دنیا کی نظروں سے خود کو غائب کرنے کے بارئے میں کوشش کر رہا تھا۔ اس نے اس سلسلے میں بہت کچھ پڑھا، سوچا، مشاہدہ کیا اور مختلف کیمیکل کے تجربات کرکے خود کو دنیا کی نظروں سے غائب کرنے کی کوشش کرتا رہا اور آخرکار ایک طویل جدجہد اور کوشش کے بعد وہ ایک ایسا فارمولا دریافت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے جس کے استعمال سے وہ اپنا جسم دنیا کی نظروں سے غائب کرسکتا ہے اور دنیا کو نظر آئے بغیر وہ جو چاہتا ہے کر سکتا ہے مگر اسے نہ کوئی دیکھ سکتا ہے اور نہ نقصان پہنچاسکتا ہے۔

ایک بھوت یا جن سا بن جاتا ہے اور دنیا کو پریشان کردیتا ہے۔ لوگوں کی نظروں سے اوجھل کسی ہوا کے جھونکے کی طرح کہیں بھی پہنچ کر کچھ بھی کرکے بھی وہ محفوظ رہتا ہے۔ وہ یہ طاقت حاصل کر تو لیتا ہے مگر وہ اپنی تحقیق اور تجربات سے دنیا کی نظروں سے اوجھل ہوکر اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ غائب تو ہوگیا مگر اب اس کیفیت سے واپس کیسے نکلے تاکہ پھر لوگوں کو نظر آنا شروع کر سکے۔

یہیں سے اس کی بےبسی کی داستان شروع ہوتی۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ ہمیشہ نظر نہ آنا کوئی طاقت یا کارنامہ ہرگز نہیں ہے۔ اصل کارنامہ تو نظروں سے اوجھل ہو کر پھر سے واپس دکھائی دینے کا عمل ہے جس کے بارئے میں اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ اسے یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ دراصل انسان کا نظر آنا کتنی بڑی نعمت ہے اور غائب ہونا تو دراصل اپنی شناخت ختم کرنا ہوتا ہے۔ اسی بےبسی کے عالم میں اسے اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ........

© Daily Urdu