menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mawazna Aur Mehroomiyan

28 0
22.07.2026

یہ غالباََ اسی کی دھائی کا ذکر ہے بنک میں بطور افسر پرموشن کے لیے ایک تحریری امتحان ہوا جس میں میری پہلی پوزیشن تھی۔ پھر ریجنل لیول پر انٹرویو ہوا تو آخر کار ہم دو دوست یعنی محبوب حسن خان مرحوم اور میں فائنل ہوئے۔ ہم دونوں نے بنک ملازمت کا آغاز ایک ساتھ ایک ہی تاریخ کو کیا تھا۔ ہماری باہمی دوستی بھی ہمیشہ مثالی رہی تھی۔ آخری اور فائنل انٹرویو کے لیے ملتان جانا پڑا جس کے لیے ہیڈآفس کراچی سے اویس قریشی صاحب تشریف لائے تھے۔ ہمارا انٹرویو بہت اچھا ہوا ملتان سے بہاولپور واپسی پر بہاولپور کے ریجنل منیجر صاحب نے ہمیں اپنے ساتھ گاڑی میں بیٹھا لیا اور راستے میں کہنے لگے دیکھو بھائی تم دونوں ہی مجھے بہت پیارئے ہو میں ذاتی طور پر تمہیں دونوں کو ہی بہت پسند کرتا ہوں مگر مشکل یہ ہے کہ آپ میں سے صرف ایک آدمی پرموٹ ہو سکتا تھا۔ اس لیے میرے لیے بڑا مشکل تھا کہ تم دونوں میں سے کس کے حق میں فیصلہ کرتا؟

بہر حال ایک کا انتخاب کرنا تھا اس لیے میں نے فیصلہ محبوب حسن خان کے حق میں کردیا ہے۔ ہمیں بڑی خوشی ہوئی اور میں نے اور ریجنل منیجر صاحب نے محبوب حسن خان کو مبارکباد دی اور مخدوم عالی پہنچ کر وہاں کے مشہور سوہن حلوہ سے منہ میٹھا کیا۔ اس دوران میں نے اپنے ریجنل منیجر صاحب سے پوچھا کہ سر! کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ محبوب حسن خان میں ایسی کیا خوبی تھی جس کی بنا پر یہ فیصلہ اس کے حق میں ہوا یا مجھ میں ایسی کیا کمی تھی کہ جو مجھے دوسرے نمبر پر لے گئی۔ وہ ہنسے اور کہنے لگے سچی بات یہ ہے کہ بس ایک خوبی زیادہ ہے کہ وہ آپ سے زیادہ خوبصورت اور سمارٹ ہے۔ ورنہ بطور بینکار تم اس سے شاید کہیں زیادہ بہتر ہو۔ یاد رکھو کہ جب سب کچھ یکساں ہو تو فیصلہ اور موازنہ کرنا مشکل ہوتا ہے کچھ خوبیاں خداداد ہوتی ہیں جو سب کو حاصل نہیں ہوتیں۔ اکثر اوقات صلاحیت سے خوبصورتی اور قدوقامت جیت جاتے........

© Daily Urdu