Gari Ki He Nahi, Insani Fitness Bhi Zaroori Hai?
گاڑی کی ہی نہیں، انسانی فٹنس بھی ضروری ہے؟
گذشتہ دنوں میرا کالم "فٹنس سرٹیفکیٹ" شائع ہوا جو گاڑیوں کی فٹنس کے بارے میں تھا تو مجھے کئی دوستوں کے پسندیدگی کے فون اور پیغامات ملے اور ساتھ ہی یہ سوال بھی کیا گیا کہ "فٹنس صرف گاڑی کی ہی کیوں انسان کی کیوں نہیں؟" تو مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آگیا جب ایک ویران سے راستے پر ایک شخص میری کار کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا میں نے کار روکی تو کار کے سامنے لیٹ گیا تھا اور باوجود کوشش کے اٹھنے کو تیار نہ تھا۔ بار بار ہارن بجانے پر وہ مجھے نیچے اترنے کا اشارہ کرتا تھا۔ میرا اندازہ یہ تھا کہ یہ شخص یا تو پاگل ہے یا پھر نشے میں دھت ہے یا پھر کوئی واردات کرنا چاہتا ہے؟
میں پریشانی کے عالم میں گاڑی سے اترنا بھی نہ چاہتا تھا۔ میری خوش قسمتی کہہ لیں کہ ایک اور گاڑی سامنے سے آگئی جس میں کئی لوگ سوار تھے۔ انہوں نے نیچے اتر کر اسے پکڑنا چاہا تو وہ دوڑ گیا اور یوں میرا بھی بھلا ہوگیا بعد میں پتہ چلا کہ وہ منشیات کا عادی تھا۔
ایسے ہی ایک مرتبہ رحیم یارخان سے آتے ہوئے ایک شخص نے میری گاڑی کا شیشہ ڈنڈا مار کر توڑ دیا میں نے گاڑی روکی تو پتہ چلا کہ یہ ایک ذہنی معذور ہے جس نے میری ہی نہیں بلکہ گزرنے والی ہر گاڑی کو نقصان پہچانے کی کوشش کی تھوڑی دیر میں اس پاگل کے وارث آگئے اور اسے پکڑ کر لے گئے لیکن گاڑیوں کا نقصان تو ہو چکا تھا۔ ایسے ہی گذشتہ دنوں ایک خبر کے مطابق خان پور میں ایک فاترالعقل شخص نے راہ گیروں پر اینٹوں سے حملہ کر دیا جس سے کئی راہ گیر شدید زخمی ہو گئے۔
کل ہی ملتان کی ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا جہاں ایک گاڑی سوار نے جان بوجھ کر ایک پندرہ سالہ یتیم بچے وسیم کو کچل دیا پتہ نہیں یہ حادثہ تھا یا........
