Joseline Sach Kehti Thi
زاہد ماموں کا اسلام آباد میں ایک چھوٹا سا ہوٹل ہوتا تھا۔ اس کا نام شالیمار تھا۔ اسے گیسٹ ہاؤس یا موٹل بھی کہا جا سکتا ہے۔ وہ پہلے ایف-7 بعدازاں ایف-8 میں واقع تھا۔ یہ نوے کی دہائی کی بات ہے۔ مجھے اور میرے بھائیوں کو اسکول کالج میں گرمیوں کی چھٹیاں ہوتیں تو ہم ادھر کئی ہفتے، مہینے قیام کرتے تھے۔ خاندان کے لیے ماموں نے وہاں مہمان خانہ بنایا ہوا تھا۔ ہم اپنے لڑکپن کے جوش اور تجسس کے باعث ادھر ریسیپشن پر بیٹھ جاتے اور ادھر ٹھہرے مہمانوں سے گپ شپ کرتے تھے۔ تب اسلام آباد میں غیر ملکیوں کی بھرمار ہوتی تھی۔ ان میں یورپی اور پیلی نسل کے کورئین، چینی، فلپینی زیادہ ہوتے تھے۔ وہ پہاڑی علاقوں کی سیاحت کو نکلے ہوتے تھے یا کوہ پیمائی کا سودا ان کے سر سمایا ہوتا تھا۔ پاکستان کے دامن میں دنیا کے بلند ترین، شان دار پہاڑ اور پہاڑی سلسلے تھے۔ پاکستان میں جمہوریت بحال ہوئے چند ہی برس ہوئے تھے، سو تازہ ہوا کا دور دورہ تھا، بے نظیر بھٹو مغرب کی ڈارلنگ تھیں، حقیقی جمہوریت ایک خواب تھا جو ہم نے پا لیا تھا۔
بھنگ اور چرس کو بُرا نشہ سمجھنے والے ہیرؤن کی تباہ کاریاں دیکھ کر انگشت بدندان تھے۔ وہیں چند افریقی بھی ٹھہرتے تھے، ان میں نائجیریا کے ایک لحیم شحیم، خوش مزاج سیاہ فام سے میری خاصی دوستی ہوگئی تھی۔........
