menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khirki Ke Us Paar

14 1
19.01.2026

ہسپتال کے تیسرے فلور پر واقع وہ کھڑکی محض ایک کھلا دریچہ نہیں تھی، وہ ایک ماں کی پوری دنیا تھی۔ اس کھڑکی کے ساتھ لگے بیڈ پر لیٹی عورت اکثر خاموشی سے باہر دیکھتی رہتی۔ نیچے بہتا دریا وقت کی طرح بے پرواہ تھا اور سامنے کھڑے بنجر پہاڑ کسی ماں کے ضبط اور تنہائی کی علامت، سخت، خاموش اور صابر۔

وہ کئی دنوں سے ہسپتال میں داخل تھی۔ بیماری آہستہ آہستہ اس کے جسم کو کمزور کر رہی تھی، مگر اس کے چہرے پر درد کی شدت کم اور فکر کی گہرائی زیادہ نمایاں تھی۔ ڈاکٹر آتے، نبض دیکھتے، فائل میں چند سطریں لکھتے اور آگے بڑھ جاتے۔ ان کے لیے یہ ایک مریضہ تھی، مگر حقیقت میں وہ ایک ماں تھی، جس کی سب سے بڑی بیماری اس کا اپنا نہیں، بلکہ اس کے بیٹے کا مستقبل تھا۔

اس کا بیٹا بے روزگار تھا۔ پڑھا لکھا، باصلاحیت، مگر حالات کے تھپیڑوں میں گھرا ہوا۔ ماں جب بھی آنکھیں بند کرتی، اسے اپنا بیٹا زندگی کی دھوپ میں اکیلا کھڑا نظر آتا۔ اسے اپنی سانسوں کے ٹوٹنے کا خوف نہیں تھا، مگر اس بات نے اسے اندر سے توڑ رکھا تھا کہ اگر وہ نہ رہی تو........

© Daily Urdu