menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jang Se Pehle America Ke Jhoot

29 0
14.03.2026

جنگ سے پہلے امریکہ کے جھوٹ

مجھے بڑی اچھی طرح یاد ہے کہ میں گاؤں میں تھا اور تقریباََ ایک ماہ بعد رمضان کا آغاز ہونے والا تھا۔ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور بش جونئیر نے کہا، "ہم افغانستان میں جمہوریت لائیں گے۔ یہ آپریشن مختصر اور فیصلہ کن ہوگا"۔

آج 25 برس بعد صدر ٹرمپ نے بالکل ویسا ہی جھوٹ دہرایا ہے، "وہ ایک ہفتے میں ہم پر حملہ کرنے والے تھے۔ یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی"۔

سن 2001 کے بعد اور میری صحافتی زندگی میں نیتن یاہو کا بھی یہ مسلسل چوتھا جھوٹ ہے، جو انہوں نے بولا ہے کہ "ایران ایٹمی ہتھیار تیار کرنے سے صرف چند ہفتے دور" ہے۔

ماضی میں بھی، جب بھی امریکہ نے کسی ملک پر حملہ کیا تو بولا گیا جھوٹ تقریباََ یہی تھا، "ہمیں فوری خطرہ ہے، ہمارے پاس وقت نہیں، ہمیں ابھی حملہ کرنا ہے"۔

اور ہر بار بغیر کسی استثناء کے یہ کہانی جھوٹی یا مشکوک نکلی۔

صدر لنڈن جانسن نے اگست 1964 میں امریکی قوم کو بتایا کہ شمالی ویتنام نے خلیج ٹونکن میں امریکی بحری جہاز پر حملہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا، "یہ کھلی جارحیت ہے۔ میں نے فوجی کارروائی کا حکم دے دیا ہے"۔

کہا گیا کہ یہ "دوسرا حملہ" چار اگست کی رات ہوا لیکن اصل میں کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔

اس رات کے فلائٹ کمانڈر ایڈمرل جیمز نے بعد میں کہا، "ہم ایک جھوٹ کی بنیاد پر جنگ شروع کرنے والے تھے، میدان میں موجود کمانڈر کی مخالفت کے باوجود"۔

2005 میں این ایس اے کی خفیہ دستاویزات نے تصدیق کی کہ چار اگست کا حملہ ہوا ہی نہیں تھا۔ دستاویزی فلم "The Fog of War" میں خود سابق وزیر دفاع میک نامارا نے اعتراف کیا، "4 اگست کا حملہ؟ نہیں ہوا تھا"۔

یہ جنگ 11 سال چلی۔ 58 ہزار امریکی اور 30 لاکھ ویتنامی مارے گئے۔ آخر میں امریکہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

صدام حسین نے کویت پر قبضہ کیا۔ صدر جارج بش سینئر نے کہا، "ہم ایک آزاد ملک کو آزاد کرائیں گے"۔

لیکن اس جنگ کو فروخت کرنے کے لیے بھی ایک بہت بڑا جھوٹ بولا گیا۔

اکتوبر 1990 میں امریکی کانگریس کے سامنے ایک 15 سالہ کویتی لڑکی آئی، صرف "نیرہ" کے نام سے۔ اس نے روتے ہوئے گواہی دی کہ عراقی فوجی ہسپتال میں گھسے، انکیوبیٹرز سے نوزائیدہ بچے نکال کر ٹھنڈے فرش پر مرنے کے لیے چھوڑ دیے اور مشینیں چرا کر لے گئے۔

صدر بش نے اگلے ایک مہینے میں چھ بار اس واقعے کا حوالہ دیا۔ سات سینیٹرز نے اپنی تقاریر میں اسے دہرایا۔ 35 سے 55 ملین امریکیوں نے ٹیلی ویژن پر یہ گواہی دیکھی۔

لیکن جنگ کے بعد سچ سامنے آیا۔

یہ لڑکی کویتی سفیر سعود ناصر الصباح کی اپنی بیٹی تھی، جو اسی کمرے میں بیٹھ کر اپنی بیٹی کی یہ گواہی سن رہے تھے۔ اس جھوٹ کو پی آر فرم "ہل اینڈ نولٹن" نے تیار کیا تھا، جسے کویتی حکومت نے 10 ملین ڈالر سے زیادہ ادا کیے تھے۔

اس فرم کا سربراہ Craig Fuller تھا، جو بش کا سابق چیف آف اسٹاف تھا۔ کویت کے ڈاکٹروں نے بعد میں بتایا کہ اس وقت ہسپتال کے انکیوبیٹرز میں شاید کوئی بچہ تھا ہی نہیں۔

تو یہ بھی جھوٹ پر شروع کی گئی جنگ تھی، فرق صرف یہ ہے کہ کویت واقعی آزاد ہوا، اس لیے یہ........

© Daily Urdu