Servers Ka Maalik, Mustaqbil Ka Maalik
سرورز کا مالک، مستقبل کا مالک
آنے والی دہائی میں بھارت صرف کوڈ لکھنے والا ملک نہیں رہے گا بلکہ وہ مصنوعی ذہانت (AI) کے پورے کھیل کو اپنے اندر سمیٹنے کی تیاری کر رہا ہے۔ حالیہ دنوں نئی دہلی میں ہونے والی ایک بڑی AI کانفرنس دراصل ایک ٹیکنالوجی ایونٹ کم اور طاقت کے مظاہرے کا منظر زیادہ تھی۔ عالمی ٹیک قیادت کی موجودگی نے واضح کر دیا کہ بھارت اب محض سروس فراہم کرنے والا ملک نہیں رہنا چاہتا بلکہ وہ AI کے عالمی نظام کا مرکزی ستون بننے کا ارادہ رکھتا ہے۔
یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔ گزشتہ تین دہائیوں میں بھارت نے آئی ٹی سروسز کے میدان میں ایک مضبوط بنیاد قائم کی۔ آج بھارت کی آئی ٹی برآمدات سالانہ دو سو ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں اور پچاس لاکھ سے زیادہ افراد براہِ راست ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ایک طویل عرصے تک بھارت کو دنیا کا "بیک آفس" کہا جاتا رہا، جہاں عالمی کمپنیوں کا سافٹ ویئر تیار ہوتا اور ڈیجیٹل خدمات فراہم کی جاتیں۔ مگر اب بھارت اپنی حکمت عملی کو اگلے مرحلے میں لے جا رہا ہے، سروس سے سسٹم کی ملکیت کی طرف۔
بھارت کی نئی حکمت عملی کا اصل مرکز ڈیٹا سینٹرز ہیں۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں مصنوعی ذہانت کی اصل طاقت پیدا ہوتی ہے۔ بڑی بڑی کارپوریشنز نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبے شروع کیے ہیں تاکہ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹرز قائم کیے جا سکیں۔ مثال کے طور پر Reliance Industries نے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سو ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کا........
