menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Modi Ki Sifarat Kari

29 0
14.09.2026

عالمی سیاست میں بعض مناظر ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر غور کیا جائے تو پوری سفارتی بساط ان کے اندر سمٹی ہوئی نظر آتی ہے۔ آج نئی دہلی میں ایسے ہی مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ایک طرف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم دہراتے ہیں، دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گرمجوشی سے ہاتھ ملاتے ہیں۔ ایک طرف اسرائیل بھارت کا قریبی تزویراتی ساتھی ہے، دوسری طرف ایران کے ساتھ چابہار اور علاقائی رابطوں کے منصوبے ہیں۔

سوال یہ نہیں کہ بھارت کس سے دوستی کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر بھارت ایک ہی وقت میں اتنے مختلف کیمپوں میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کیوں کر رہا ہے؟

اس کا جواب بھارتی خارجہ پالیسی کی بنیادی سوچ میں چھپا ہوا ہے: جہاں مفاد ہو، وہاں تعلق۔

نریندر مودی نے اسرائیلی کنیسٹ میں اسرائیل کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہنے کا اعلان کیا۔ اسی خطاب میں بھارتی نژاد یہودیوں کے حوالے سے اسرائیل کو ان کا "فادر لینڈ" اور بھارت کو "مدر لینڈ" قرار دیا گیا۔ لیکن اسی بھارت کے لیے ایران بھی اہم ہے۔

چابہار بندرگاہ بھارت کی اس تزویراتی سوچ کا اہم حصہ رہی ہے جس کے ذریعے وہ پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ 2026 کے بھارتی بجٹ میں چابہار کے لیے رقم مختص نہ کیے جانے سے یہ تاثر ضرور پیدا ہوا کہ امریکی دباؤ نے نئی دہلی کی مشکلات بڑھا دی ہیں،........

© Daily Urdu