Iss Saal Dunya Ke Aman Ko Darpesh Khatraat
امن ایک ایسی نایاب روشنی ہے جو تاریک راہوں میں امید کی کرن بنتی ہے مگر جب جنگ کی آندھیاں چلتی ہیں تو یہ روشنی بجھ کر انسانیت کو اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔ 2026ء کے آغاز میں جب دنیا ٹیکنالوجی کی بلندیوں کو چھو رہی ہے تب بھی امن کی عمارت کی بنیادوں میں سُلگتی آگ دنیا کے امن کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ تاریخ کی کتابیں بتاتی ہیں کہ جنگیں کبھی فاتح پیدا نہیں کرتیں بلکہ صرف شکست خوردہ نسلیں چھوڑتی ہیں۔
آج ہم ایک ایسے دور میں کھڑے ہیں جہاں چھ بڑے محاذ عالمی نظام کو چیلنج کر رہے ہیں۔ یہ محاذ نہ صرف لاکھوں جانیں نگل رہے ہیں بلکہ عالمی معیشت، غذائی تحفظ اور انسانی حقوق کو بھی داؤ پر لگا رہے ہیں۔ ان میں سب سے پہلا سلگتا محاذ غزہ کا بحران ہے جو اب انسانیت کا قبرستان اور عالمی ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔ اکتوبر 2023ء میں شروع ہونے والا اسرائیل حماس تنازعہ اب تک ہزاروں بے گناہ شہریوں کی جانیں نگل چکا ہے۔
غزہ کی پٹی اب ملبے کا ڈھیر اور عالمی قانون کی شکست کا اشتہار ہے جو چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ طاقتور کا انصاف صرف طاقت کے تابع ہے۔ یہ بحران نہ صرف مشرق وسطیٰ کی سلامتی کو متاثر کر رہا ہے بلکہ علاقائی طاقتوں جیسے ایران، عرب ممالک اور عالمی قوتوں کے درمیان کشیدگی بھی بڑھا رہا ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر صدر ٹرمپ نے حال ہی میں غزہ کے مسئلے کے حل کے لیے "بورڈ آف پیس"کے قیام کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے پیش کردہ امن چارٹر پر درج ذیل اہم ممالک امریکہ، پاکستان، سعودی عرب،........
