menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jab Quaid Ne Kaha Main Akela Hoon

20 0
06.03.2026

جب قائد نے کہا میں اکیلا ہوں

کبھی کبھی تاریخ کے بڑے موڑ شور سے نہیں بلکہ سرگوشیوں سے جنم لیتے ہیں۔ وہ لمحے جب ہجوم موجود ہوتا ہے مگر قائد خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ "مراد! میں اکیلا ہوں" بھی ایسا ہی ایک لمحہ تھا۔ یہ شکوہ نہیں تھا، یہ کمزوری کا اعتراف نہیں تھا، بلکہ یہ اُس بوجھ کی نشاندہی تھی جو ایک خواب دیکھنے والا اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتا ہے۔

قیادت کا سب سے کڑا امتحان یہی ہوتا ہے کہ جب آپ کے گرد ہزاروں لوگ ہوں، نعروں کی گونج ہو، کیمرے چمک رہے ہوں، مگر فیصلے کی گھڑی میں آپ کو اپنے رب کے سوا کوئی سہارا محسوس نہ ہو۔ تنہائی دراصل اس مقام کا نام ہے جہاں انسان کو اپنی نیت، اپنے ارادے اور اپنے مقصد سے سچا ہونا پڑتا ہے۔ شاید اسی کیفیت میں یہ جملہ ادا ہوا ہوگا۔

مراد سعید جیسے نوجوان کے لیے یہ الفاظ کسی حکم نامے سے کم نہ تھے۔ جب ایک رہنما اپنے ساتھی سے کہتا ہے کہ "میں اکیلا ہوں" تو وہ دراصل یہ نہیں کہہ رہا ہوتا کہ میرے پاس لوگ نہیں، بلکہ وہ یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ میرے خواب کی قیمت بہت زیادہ ہے اور اس قیمت کی ادائیگی میں ساتھ دینے والے کم ہیں۔ یہ جملہ وفاداری کا امتحان بھی تھا اور کردار کی کسوٹی........

© Daily Urdu