Ye Karkardagi Hai?
معاشی گرداب سے نکلنے کی جدوجہد میں مصروف پاکستان کے لیے اب بھی اچھی خبروں کا فقدان ہے اور عالمی ساکھ میں بہتری کے باوجود معاشی صورتحال مزید خراب ہوتی جارہی ہے اور ملک کا انحصار قرضوں پر ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ حکومت کے معاشی ارسطو ناکام ہوچکے ہیں اگر جلد پیداواری شعبے کو بہتر نہ بنایا گیا تو معاشی بہتری کا خواب ادھورا ہی رہے گا عسکری اور سفارتی کامیابیوں سے بھی معاشی بھلا نہیں ہوگا بیرونی دورے بھی وقت اور سرمائے کا ضیائع ہی ثابت ہوں گے۔
پاکستان کا سرپلس بجٹ سے خسارے میں جانا خطرے کی گھنٹی ہے جسے حکمران اشرافیہ کو سنجیدہ لینا چاہیے۔ رواں مالی سال کے نو ماہ جولائی تا مارچ بجٹ خسارہ 856 ارب چھتیس کروڑ ہوگیا ہے۔ یہ خسارہ مالی سال کے اختتام تک ہزار ارب کا ہندسہ کراس کر سکتا ہے۔ اِن اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی خرابیاں نہ صرف بددستور موجود ہیں۔
برآمدات کی طرح درآمدات کے حوالے سے بھی کوئی نتیجہ خیز پالیسی نہیں بنائی جاسکی جس سے آمدن کے زرائع مزید کم ہو رہے ہیں اور ملک قرضوں کی دلدل میں دھنس رہا ہے ظاہر ہے۔ اِس خرابی کی ذمہ دار اپوزیشن تو نہیں بلکہ حکومت ہی ہے جو فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی اور غفلت کی مرتکب ہے۔
یہ تو ملک کا ایک عام شہری بھی جانتا ہے کہ جب تک غیر ضروری اخراجات پر قابو نہیں پایا جاتا اور آمدن کے زرائع مستقل بنیادوں پر بڑھائے نہیں جاتے۔ ملک کی معاشی حالت بہتر ہونا مشکل ہے۔ یہ عام فہم بات حکومت کے معاشی ارسطو بھی جانتے ہوں گے لیکن دستیاب اعداد و شمار........
