Siasi Mafadat Ke Liye Shuhada Ki Ahmiyat Kam Karna
سیاسی مفاد کے لیے شہدا کی اہمیت کم کرنا
لازمی نہیں کی اچھے والدین کی اولاد بھی اچھی۔ ہو جلیل القدر نبی حضرت نوح علیہ اسلام کی اہلیہ اور بیٹا ایمان نہ لائے اور اِس حالت میں انجام کو پہنچے کہ دوزخ کے حقدار ٹھہرے۔ حضرت لوط علیہ اسلام کی بیوی بھی نبوت کی پاکیزگی سے دور رہی اور اللہ کے مغضوب بندوں میں شمار ہوئی۔ نیکی اور ہدایت کی توفیق اللہ کی طرف سے ہے جو ہدایت پاگیا وہ فلاح و کامیابی پا گیا۔
مولانا فضل الرحمٰن کے والد مفتی محمود کا ایک مخصوص مکتبہ فکر تھا جس سے بڑی تعداد اختلاف رکھتی ہے اور یہ سچ ہے کہ وہ پاکستان بنانے کے خلاف تھے مگر جب قائدِ اعظم کی ولولہ انگیز قیادت سے دنیا کی سب سے بڑی ریاست بن گئی تو مفتی محمود نے اپنے موقف میں تبدیلی کرلی اور دینی و سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگے۔ مولانا فضل الرحمٰن بھی انھی کے فلسفے کی ترویج و فروغ کے داعی ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ دینی سرگرمیوں کی آڑ میں اُن کی نظر سیاسی مفاد پر ہوتی ہے۔ وہ اِداروں کا اعتماد حاصل کرنے کی تگ و دو کرتے اور عوضانے میں حکومتی منصب چاہتے ہیں مگر اپوزیشن میں ہوں تو دینی رہنما بن جاتے ہیں اور حکومت میں ہوں تو صرف دنیا کے رہ جاتے ہیں۔ اُن کے اِس کردار پر اکثر لوگ کہتے ہیں کہ مفتی محمود تو اچھے تھے لیکن اُن کا بیٹا عجب روش پر گامزن ہیں۔ یہی تضاد اُن کی اہمیت و احترام کم کرتا ہے مگر ذہن میں رکھنے والی بات یہ ہے کہ انتہائی مقدس ہستیوں کے گھروں میں بھی نافرمانی ہوتی رہی لہذا مولانا فضل الرحمٰن جیسے دنیا دار کے کردار کا تضاد........
