Pak Kazak Tawun Ke Imkanat o Asraat
اگر یہ کہا جائے کہ پاک قازق تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں توبے جا نہ ہوگا۔ اِن کے مابین ماضی میں بھی ہمیشہ اچھے اور دوستانہ تعلقات رہے مگر نوعیت محدود رہی اب کچھ وسعت آئی ہے جوکہ ایک ایسی اچھی پیش رفت ہے جس سے وسط ایشیائی ریاستوں سے تاریخی روابط مزید گہرے اور مضبوط ہوسکتے ہیں۔ پاک قازق سوچ مقامی اور عالمی حوالے سے یکساں ہے مضبوط ثقافتی اور مذہبی رشتوں سے منسلک ہونے کی بنا پر اِن میں اشتراکِ کار بہت آسان ہے کیونکہ ثقافت اور طرزِ زندگی میں بھی کچھ زیادہ فرق نہیں لیکن تعاون کے وسیع امکانات و مواقع کے باوجود اعلیٰ سطحی روابط کا فقدان سمجھ سے بالاتر ہے۔
اِس حوالے سے حائل رکاوٹیں دور کرنا دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف 23برس کی طویل مدت کے بعد رواں ماہ کے پہلے عشرے پاکستان آئے۔ اِتنی طوالت سے دوستی کا تاثر جنم نہیں لیتا۔ قازقستان وسطی ایشائی ممالک میں رقبے کے لحاظ سے نہ صرف سب سے بڑا ملک ہے بلکہ اِس کی معیشت بھی خطے میں سب سے بڑی ہے۔ یہ ملک قدرتی وسائل سے مالا مال ہے جن میں تیل و گیس یورنیم اور دیگر وسیع معدنی ذخائر شامل ہیں۔ پاکستان نے قازقستان کو 1991 میں آزاد ملک تسلیم کرتے ہوئے سفارتی تعلقات قائم کیے مگر آج بھی تعلقات میں عملی گرمجوشی کم ہے۔ قازق صدر کا حالیہ دورہ باہمی تعلقات کی مضبوطی میں اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے اگر پاکستان اہداف حاصل کرنے پر توجہ دے وگرنہ ماضی کی طرح موجودہ معاہدے بھی محض کاغذات کا پلندہ ثابت ہوں گے۔
موجودہ صدی جیوپالیٹکس کی نہیں بلکہ جیو اکنامکس........
