Iran Par Hamle
ایران پر ہونے والے حملوں کو جنگ نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ کُھلی جارحیت ہے۔ ایرانی کاروائیاں محض دفاعی ہیں ویسے بھی امریکہ اور اسرائیل سے ایران کا موازنہ بنتا ہی نہیں البتہ جب لڑائی تھوپ دی جائے تو مزاحمت ناگزیر ہوجاتی ہے۔ جوہری تنازع حل کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مزاکرات جاری تھے جن میں کئی امورپر اتفاق بھی ہوگیا تھا مگر سلجھتے معاملات کو الجھانے کے لیے میزائل پروگرام ختم کرنے کی شرط رکھ دی گئی۔ عین ممکن ہے اِس حوالے سے بھی ایران کسی حدتک لچک کا مظاہرہ کردیتا مگر اچانک ہی حملہ کر دیاگیا۔ شاید امریکہ اور اسرائیل کو گھمنڈ تھا کہ فضائیہ کے بغیر ایران چند گھنٹے مقابلہ نہیں پائے گا اور ہتھیار ڈال دے گا لیکن توقعات کے برعکس اور بھاری جانی ومالی نقصان اُٹھانے کے باوجود ایران مقابلے پرڈٹ گیا ہے۔
اِس میں شائبہ نہیں کہ ایرانی فضائی حدود پر امریکہ اور اسرائیل کا قبضہ ہے اور وہ بے دریغ بمباری کر رہے ہیں لیکن ایران سے امریکی اڈے اور اسرائیل بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ ایرانی ڈرونز اور میزائل کسی حد تک درست نشانوں پر لگ رہے ہیں۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اور فضائی کمزوریوں کے باوجود ایران مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ ایران نئے سپریم لیڈر کا انتخاب اُن کی مرضی کے مطابق کرے مگر ایسا ہونا بظاہر ناممکن ہے کیونکہ ایران نے شہید سپریم لیڈر کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو منتخب کرنے کا عندیہ دیا ہے جو والد سے زیادہ سخت گیر ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ امریکی اور اسرائیلی اندازوں کے برعکس ہے اسی لیے اب ٹرمپ اور نیتن یاہو کے رویے سے جھنجلاہٹ عیاں........
