Hamla Aur Ibham
تجزیہ کاروں کے پاس کوئی غائب کا علم نہیں ہوتا بلکہ وہ حالات و واقعات کی روشنی میں پشین گوئی کرتے ہیں کہ مستقبل میں حالات کِس طرف رُخ کریں گے۔ یہ درست ہے کہ دنیا معلومات کے حوالے سے گلوبل ویلج بن چکی ہے مگر اِس سطح تک آنے میں انسان نے بہت کچھ کھو دیا ہے۔ اُس کا کچھ راز نہیں رہا ہر لمحہ اور گفتگو ریکارڈ رکھنے کا سامان ہے۔ شہریوں کی آزادی سلب ہو چکی ہے۔ دوم غلط معلومات سے انسانی ذہن کو بہکانا نہایت آسان ہوگیا ہے یہ وہ نقصان ہے جس کا نعم البدل کوئی ایجاد نہیں۔ تیز ترین ترقی کے باوجود آج صورتحال یہ ہے کہ زرائع ابلاغ تک دباؤ کا شکار ہیں اور وہی کچھ دکھانے کی پالیسی پر کاربند ہیں جو عالمی طاقتوں کو پسند ہو۔ اعلیٰ مناصب پر فائز شخصیات ہوں یا عام آدمی، جس کے پاس موبائل ہے اُس کی پرائیویسی نہیں رہی لہذا کسی کو مکمل طور پر آزاد قرار دینا مشکل ہے ایسے حالات میں ہفتے کو صدر ٹرمپ پر ہونے والے حملہ بارے قوی شبہات ہیں کہ تصویر وہ نہیں جو بظاہر پیش کی جارہی ہے۔ یہ واقعہ منصوبہ بندی اور سہولت کاری کا شاخسانہ لگتا ہے۔
عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ صدر ٹرمپ امریکہ کے صدر ہونے کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر پل بدلتا اُن کا موقف دنیا کو حیران کرتا ہے وہ دورانِ انتخابات بھی حملے کا نشانہ بنے اور زخمی ہوئے مگر محفوظ رہے جس سے اُن کی انتخابی مُہم کو نئی تقویت ملی اور وہ مدمقابل کو باآسانی پچھاڑنے میں کامیاب ہوئے۔ اب جبکہ مڈٹرم انتخابات قریب ہیں اور زرائع ابلاغ کا رائے........
