menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Beijing Aur Ottawa Mein Qurbat Aalmi Tabdeeli Ka Akkas

15 25
24.01.2026

کیا وینزویلا میں امریکی کاروائی سے براعظم امریکہ میں چین کی تجارتی پیش قدمی رُک گئی ہے؟ اِس کے جواب میں ہاں نہیں کہہ سکتے بلکہ اِس واقعہ نے دنیا کو جھنجوڑا ہے اور عالمی تبدیلیوں کو تیز تر کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے حامی اور مخالف دونوں کو زچ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے کئی ایسے ممالک بھی چین کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں جو کئی عشرے امریکہ کے ساتھ رہے اِن میں یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔ بظاہر وینزویلا سمیت کسی بھی ملک کے خلاف امریکی کاروائی کے خلاف چین نے ہمیشہ شدید عملی ردِ عمل دینے سے گریز کیا لیکن اب احتیاط پسندی پر حقیقت پسندی غالب ہے۔ ایران امریکہ کشیدگی میں بھی چینی ردِ عمل سفارتی رہا لیکن کچھ شدت محسوس کی گئی جس سے کمزور ممالک کی کافی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور وہ سرمایہ کاری اور متبادل سمجھ کر چین کی طرف متوجہ ہوئے ہیں۔

کینیڈا کو 51واں صوبہ بننے کی پیشکش اور گرین لینڈ کو حصہ بنانے کا ٹرمپ اعلان دنیا نے مسترد کر دیا ہے حالانکہ ڈنمارک کا شمار نیٹو دفاعی اتحاد کے بانیوں میں ہوتا ہے جس کی ایک شق یہ ہے کہ اِس تنظیم میں شامل کسی ملک پر ہونے والا حملہ تمام رُکن ممالک پر تصور ہوگا۔ ویسے بھی ٹرمپ کونسا کسی کی سُنتے ہیں جو قوانین، اخلاق یا اصول کی بات کریں مگر اُن کے اقدامات نے عالمی تبدیلیوں کو اِس حد تک ناگزیر بنا دیا ہے کہ کینیڈا جیسا ہمسایہ بھی متبادل کی طرف راغب ہے اور وہ روایتی پالیسی ترک کرتے ہوئے چین کی طرف دیکھنے لگا ہے جس کا چینی قیادت نہ صرف گرمجوشی سے خیر مقدم کررہی ہے بلکہ اِس تبدیلی کامثبت جواب دے رہی ہے۔ غالب اِمکان ہے کہ چین و کینیڈا........

© Daily Urdu