menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bangladesh Ka Mojuda Siasi Mizaj

27 1
31.12.2025

اعلان کے مطابق بنگلہ دیش میں عام انتخاب آمدہ برس بارہ فروری کو ہونے ہیں جن کی سیاسی صف بندی جاری ہے۔ نئے اتحاد معرضِ وجود میں آرہے ہیں۔ ملک میں انتخابی ہے یہ پہلا موقع ہے کہ ملک کی 54 سالہ تاریخ میں عوامی لیگ کے بغیر انتخابی عمل مکمل ہوگا۔ سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا بھی شدید بیماری کی وجہ سے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے قابل نہیں مگر اُن کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سب سے بڑی اور مقبول قوت ہے۔ نیز پورے ملک میں فعال ہے جس کی قیادت کے لیے اُن کا بیٹا موجود ہے اِس لیے سیاسی دنگل حیران کُن ہونے کے باوجود دلچسپ ہوسکتا ہے۔

بنگلہ دیش کا موجودہ سیاسی مزاج اِس بنا پر اہم ہے کہ جماعتِ اسلامی سے پابندی ختم ہوچکی ہے وہ انتخابی قوت بننے کی سرتوڑ کوشش میں ہے اور انتخاب جیت کر حکومت تشکیل بنانے کی آرزومند ہے۔ جماعتِ اسلامی کی قیادت میں آٹھ جماعتی اتحاد بن چکا ہے۔ اِس کی خاص بات یہ ہے کہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اور طلبا کی نئی سیاسی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی(این سی پی) اِس میں شامل ہو چکی ہیں۔ اِس اتحاد کا دعویٰ ہے کہ ملک کے تمام تین سو حلقوں کے لیے مشاورت سے امیدواروں کی حتمی فہرست مکمل کرلی ہے جو ایک تیز رفتار پیش رفت ہے۔ ایسی کوششوں کے مثبت نتائج آنے سے جماعتِ اسلامی ملکی منظرنامے میں اہم حثیت کر سکتی ہے کیونکہ عبوری حکومت کی توجہ انتخابی عمل کو شفاف اور منصفانہ بنانے پر ہے وہ کسی سیاسی پلڑے میں وزن نہیں ڈال سکتی جس سے غیرجانبدارانہ تشخص داغدار ہو۔

جماعتِ اسلامی کی قیادت میں بننے والے اتحاد کا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ طلبا رہنما اِس کاحصہ بن چکے جنھوں نے سوا برس قبل ایک زوردار تحریک سے........

© Daily Urdu