Social Media Ke Bazar Aur Tang Galiyan
سوشل میڈیا کے بازار اور تنگ گلیاں
چار اور عجیب سی صورتحال ہے مسائل ہیں، کچھ مشکلات بھی۔ سوشل میڈیا کے میدانوں میں جھوٹ اور تکفیر ہر دو دھڑلے سے بیچے جارہے ہیں پتہ نہیں گودی میڈیا کی بد روح سوشل میڈیا کے پاکستانی صارفین کے بڑے حصے میں اثر کرگئی ہے یا محض لائک و کمنٹس کی بھوک ہے جو ٹھنڈی نہیں ہورہی؟
پچھلے کئی گھنٹوں سے یہی بالائی سطور لکھ سکا ہوں ذہن ماوف ہے کیوں، میں اس سوال کا جواب تلاش نہیں کرپارہا، ہم جیسے طالبعلم جو ہمیشہ سے یہ سمجھتے آئے ہیں کہ جدیدیت ارتقا کا راستہ ہے کبھی کبھی اس جدیدیت سے خوفزدہ ہونے لگتے ہیں۔
اللہ بخشے ہمارے اساتذہ کرام میں سے ایک سید محمد عباس نقویؒ کہا کرتے تھے "ہر نئے عہد میں کچھ لوگ ارتقا پر توجہ دیتے ہیں اور کچھ کی حالت اندھے کے پاوں تلے آئے بٹیرے والی ہوجاتی ہے"۔ پتہ نہیں مجھے کیوں لگتا ہے کہ سوشل میڈیا بھی اندھے کے پاوں تلے آیا بٹیرا ہے اور صارفین کی اکثریت بٹیرے باز، لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا فقط ہمارے ہاں ہی ہے یا اڑوس پڑوس اور باقی دنیا میں بھی یہی صورتحال ہے؟
اپنے مطالعے اور مشاہدے کی بنا پر یہ عرض کرسکتا ہوں ہرجگہ یہی صورتحال ہے یعنی چہرے اور سماج بدلتے ہیں کردار تقریباً ملتے جُلتے ہوتے ہیں۔
یہ سطور لکھتے ہوئے سیدی عدم (سید عبدالحمید عدم مرحوم) یاد آئے سیدی اردو زبان کے بلند پایہ شاعر تھے وہ "ظرف کے فرق سے آواز بدل جاتی ہے" (یہ دوسرا مصرعہ ہے) والا شعر انہی کا ہے، مثال کے طور پر جب سے ایران امریکہ جنگ شروع ہوئی (ان دنوں نام نہاد جنگ بندی چل رہی ہے) ہے۔ سوشل میڈیا کے پاکستانی........
