Siasi Ikhtilafat Se Nafrat Kasheed Karne Ki Soch
لیجے بالآخر پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا قومی اسمبلی میں بطور قائد حزب اختلاف تقرری کا نوٹیفکیشن جاری ہوگیا۔ فارم 45 والے سوا درجن مجاہدین نے فارم 47 والے اسپیکر قومی اسمبلی سے نوٹیفکیشن وصول کیا تو ہر جانب ہاہاکاری نے سماں باندھ دیا۔ آپ جس وقت یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے اس سے کچھ دیر یا چند گھنٹوں بعد سینیٹ آف پاکستان میں قائد حزب اختلاف کے طور پر مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری ہوجائے گا۔ دونوں صاحبان کو اڈیالہ جیل میں قید تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے نامزد کیا تھا۔
محمود خان اچکزئی کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے طور پر تقرری اس کے باوجود عجیب نہیں کے ماضی میں عمران خان نہ صرف ان کا تمسخر اڑاتے رہے بلکہ بسا اوقات سستے جملے اچھالتے ہوئے کنٹینر پر کھڑے ان کی نقلیں بھی اتارتے رہے۔ راجہ ناصر عباس جعفری سینیٹ میں قائد حزب اختلاف نامزد ہوں گے تو اسد قیصر کا وہ موقف نالہ لئی کا رزق بن جائے گا جو انہوں نے علی محمد خان کے ساتھ ملکر اس وقت اپنایا تھا جب عمران خان چاہتے تھے کہ تحریک انصاف کی حمایت سے جیتنے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی ایم ڈبلیو ایم میں شامل ہوجائیں کیونکہ وہ پارلیمانی قواعد کے مطابق ایک پارلیمانی پارٹی کا درجہ رکھتی ہے۔
اُس مرحلہ پر جو ہوا اس ایک ایکٹ کے ڈرامے کا رائٹر کون تھا؟ یہ اہم سوال ہے ضمنی سوال یہ ہے کہ کیا اسد قیصر "کسی کے تھمائے گئے مشن" پر تھے؟
ہر دو سوالوں کا جواب موجود ہے لیکن فی الوقت یہی کہ اگر اُس وقت عمران خان کی بات مان لی جاتی اور اسد قیصر کی جہادی برانڈ مسلم پختون ولی بیدار نہ ہوتی تو آج پارلیمانی سیاست کے رنگ ڈھنگ کچھ اور ہوتے۔
سیاسیات و صحافت کے ادنیٰ طالبعلم کی حیثیت سے ان سطور میں ہمیشہ عرض کرتا رہتا ہوں کہ سیاست میں مستقل دوستیاں اور دشمنیاں ہرگز نہیں ہوتیں اور سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی کا رنگ دینا احمقوں غول کا حصہ بننا ہے۔
محمود........
