Khabron Ka Rizq Aur Mehangai Ka Tsunami
خبروں کا رزق اور مہنگائی کا سونامی
بین الاقوامی صورتحال اور ایران امریکہ جنگ (ان دنوں جنگ بندی جاری ہے) کے پاکستانی تجزیہ کاروں کو اللہ نے دوخبروں کا رزق عطا کر دیا ہے۔ ایک کا تعلق اسلام آباد سے ہے اور دوسری خبر کا برطانیہ سے اللہ تعالیٰ ہمارے تجزیہ نگاروں کی توفیقات میں اضافہ فرمائے بھاگ لگے رہیں دہن کے چولہے جلتے رہیں اور ڈالر برستے رہیں۔
مجھے معاف کیجے گا دیسی یعنی اسلام آبادی خبر بڑوں کے رولے ہیں ہمیں ان بڑوں سے کروڑ ہا درجہ ہمدردی ہے لیکن اسلام آباد کی دو قدیم آبادیوں سید پور اور نورپور نامی بستیوں کے تاراج ہونے اور ہزاروں خاندانوں کے دربدر ہونے پر دُکھ ہے۔ صدیوں سے آباد یہ بستیاں غیرقانونی قرار پائیں بلڈوزر چلے اور سب تہس نہس ہوگیا کیڑے مکوڑے کیا کرسکتے تھے کچھ نہیں بس چند دن روئیں پیٹیں گے پھر حالات کو قسمت کا لکھا ہے والی متھ کی بُکل اوڑھا کر نئی دنیا بسانے کیلئے ہاتھ پاوں ماریں گے۔
جیون بھوگ یہی ہے اور یہ جیون بھوگ ہوتا صرف رعایا کیلئے ہے ہم خود بھی اسی رعایا کا نقد حصہ ہیں اور یہی سب ستاسٹھ برسوں سے بھوگتے آرہے ہیں۔
جہاں تک تعلق ہے "ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو اپارٹمنٹس" المعروف حیات ٹاور کا تو یہ بڑے لوگوں کے رولے ہیں ہماری تو ان رولوں کی گرد کو پہنچنے میں سانس پھول جاتی ہے۔ اب تو چند سیڑھیاں اترتے چڑھتے یا چند قدم چلتے سانس پھولنے لگتی ہے اس لئے کوشش کرتے ہیں کہ بڑے لوگوں کے رولے سے دور رہیں۔ حیات ٹاور کے فلیٹس مالکان میں بڑے بڑے بلکہ بہت بڑے لوگ شامل ہیں سوشل میڈیا مجاہدین کچھ یوٹیوبرز اور صحافی "ہمت" کرکے فلیٹس مالکان کے نام لکھ رہے ہیں کچھ کے نام لکھتے ہیں کچھ نام لکھتے ہوئے ان کی بھی سانس پھولنے لگتی ہے۔
ہمیں وہ مہاتما برانڈ تحقیقاتی صحافی یاد آرہے ہیں جو رواں صدی کے دوسرے عشرے کے ابتدائی برسوں میں دھاڑا........
