menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Baluchistan Ka Aatish Fishan

9 5
03.02.2026

بلوچستان کی صورتحال تشویشناک سے آگے کا معاملہ ہے کسی نے کہا تھا "بلوچستان کی بد امنی ایک تھانیدار کی مار ہے"۔ ہفتہ 31 جنوری کو بلوچستان کے لگ بھگ سولہ مقامات پر جو کچھ ہوا اس کے بعد یہ پوچھنا تو بنتا ہی ہے کہ "حضور وہ تھانیدار کہاں ہے، کیا اسے ابھی پیدا ہونا ہے"۔ ہمارے ہاں چیزوں مسائل اور معاملات کو دیکھنے سمجھنے کیلئے ہر شخص کی اپنی عینک اور فہم ہے۔ آپ حمام پر بال کٹوانے کیلئے باری کا انتظار کرتے دانشوروں کی دانش کے اُبال سے پریشان ہوں تو پبلک ٹرانسپورٹ کے مسافر نابغوں یا ٹی اسٹالوں پر چائے کی چُسکیوں سے تھکان اتارتے ہر فن مولاوں کی کھڑکی توڑ دانشوری سے استفادہ کیجے گھبرانے کی ضرورت بالکل بھی نہیں۔

گزرے 78 برسوں میں ہم نے دانشور جماندروں تجزیہ کار اور خبری کاشت کرنے کے علاوہ اگر کوئی کام کیا ہے تو وہ ہر سال مختلف اقسام کے مولویوں کی فصلیں ہیں۔ ان ساری بے فائدہ فصلوں کی کاشت نے ہمیں کیا دیا یہ سوال بھوکی ڈائن کی طرح رقصاں رہتا ہے۔ اس کا رقص دیکھتے رہیں جینے کیلئے یہی کافی ہے۔ خاکم بدہن اگر آپ کے ذہن میں سوالات کاشت کرنے کا کوئی پروگرام "بن سنور" رہا ہے تو مناسب ہوگا اسے بننے سنورنے نہ دیجئے کیونکہ یہ فصل منافع بخش نہیں ہوگی۔ اچھا ویسے غیر منافع بخش فصلوں کو کاشت کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔۔

"ہم سا ہے تو سامنے آئے"

ساعت بھر کیلئے رُکیئے گزشتہ سے پیوستہ شب ہمارے ایک عزیز نے سوال کیا "بلوچستان کے مسائل کا دیر پا حل کیا ہے؟" عرض کیا قلات پر لشکر کشی کی معافی سے ابتدا کرنا ہوگی، وہ کیوں نوجوان عزیز نے دریافت کیا؟ عرض کیا اگر یہ مان لیا جائے کہ قلات میں ہونے والے بلوچ قومی جرگے نے الحاق پاکستان کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا تو پھر لشکر کشی کی ضرورت کیوں محسوس کی قائد اعظم محمد علی جناح نے۔

اب یہی ایک راستہ ہے کہ ریاست اپنی غلطیوں کی اجتماعی معذرت کرے اس موقع پر ہمارے دوست عابد راو نے لقمہ دیا کہ آصف علی زرداری نے معافی مانگی تو تھی پیپلز پارٹی کے دوہزار آٹھ میں شروع ہونے والے دور اقتدار میں؟

عرض کیا آصف علی زرداری کی بلوچوں سے معذرت کو پیپلز پارٹی کے 1970 کی دہائی میں بلوچستان میں اٹھائے گئے اقدامات........

© Daily Urdu