menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Syed Salman Gilani Muskurahaton Ke Moammar

24 0
28.02.2026

سید سلمان گیلانی مسکراہٹوں کے معمار

آج کل سید سلمان گیلانی کی رحلت کی خبر نے ادبی اور مذہبی حلقوں میں جس قدر دکھ اور افسوس کی لہر دوڑا دی ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کس قدر عظیم شخصیت کے مالک تھے، 21 فروری 2026ء کو لاہور میں 74 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا اور وہ ایک بیٹے اور دو بیٹیوں سمیت اپنے چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ گئے، طویل علالت کے بعد شیخ زید ہسپتال میں انہوں نے آخری سانس لی، دل اور جگر کے عارضے میں مبتلا تھے اور حال ہی میں بائی پاس سرجری بھی کرائی تھی مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

سید سلمان گیلانی 7 ستمبر 1951ء کو لاہور میں پیدا ہوئے اور ان کی ابتدائی تعلیم شیخوپورہ میں ہوئی جبکہ ایم اے پنجاب یونیورسٹی سے کیا، وہ تحریک ختم نبوت کے معروف رہنما سید امین گیلانی کے صاحبزادے تھے جن کا تعلق امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے قریبی حلقے سے تھا، یہ دینی اور علمی ماحول تھا جس نے سلمان گیلانی کی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا، بچپن ہی سے ان کے اندر عشق رسولﷺ کی ایسی لگن تھی جو عمر بھر تر ہوتی رہی اور پھر نعت گوئی ان کے وجود کا لازمی جزو بن گئی، وہ نعت کے حوالے سے اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے اور ان کی نعتوں میں سوز و گداز اور عقیدت کی وہ کیفیت تھی جو سننے والوں کو جہانِ رقت میں مبتلا کر دیتی تھی۔

انہیں "شاعرِ ختمِ نبوت" کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا کیونکہ انہوں نے ختم نبوت کے موضوع پر بھی بھرپور شاعری کی اور اس تحریک کو اپنا قلمی اور عملی تعاون دیا، اسی جذبے کے........

© Daily Urdu