menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Shuhada, Zinda Qaumon Ki Pehchan Aur Tehzeebon Ka Mushtarka Zameer

17 0
17.07.2026

شہداء، زندہ قوموں کی پہچان اور تہذیبوں کا مشترکہ ضمیر

شہداء کسی بھی قوم کی تاریخ کا وہ روشن باب ہوتے ہیں جسے وقت کی گرد کبھی دھندلا نہیں سکتی۔ قومیں اپنی سرحدوں، آئین، معیشت یا عسکری قوت سے ضرور پہچانی جاتی ہیں، لیکن ان کی حقیقی شناخت ان عظیم انسانوں سے وابستہ ہوتی ہے جنہوں نے اپنے وطن، اپنے نظریے، اپنے عقیدے یا انسانیت کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر مہذب تہذیب، ہر ترقی یافتہ ریاست اور تقریباً ہر مذہب نے شہداء کو غیر معمولی عزت و توقیر کا مقام دیا ہے۔ شہداء صرف ماضی کی ایک یاد نہیں ہوتے بلکہ وہ حال کی طاقت اور مستقبل کی ضمانت بھی ہوتے ہیں۔ وہ قوموں کے اجتماعی ضمیر، اخلاقی وقار اور نظریاتی استحکام کی علامت بن جاتے ہیں، کیونکہ جو قوم اپنے شہداء کو فراموش کر دیتی ہے، وہ رفتہ رفتہ اپنی تاریخ، اپنی تہذیب اور اپنی شناخت سے بھی دور ہوتی چلی جاتی ہے۔

دنیا کے نقشے پر نگاہ دوڑائی جائے تو شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں شہداء کی یادگاریں موجود نہ ہوں یا جہاں قومی سطح پر ان کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش نہ کیا جاتا ہو۔ امریکہ میں آرلنگٹن نیشنل سیمیٹری سے لے کر برطانیہ کے سینوٹاف تک، فرانس کے آرک دے تریومف سے روس کے ٹومب آف دی اَن نون سولجر تک، ترکی کی چناق قلعہ کی یادگاروں سے لے کر جاپان کے قومی مزارات تک، ہر جگہ ایک ہی پیغام نمایاں دکھائی دیتا ہے کہ قومیں اپنے محافظوں اور محسنوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں۔ یہ یادگاریں محض پتھر، سنگِ مرمر یا دھات کے ڈھانچے نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی وہ علامتیں ہیں جو آنے والی نسلوں کو یاد دلاتی ہیں کہ آزادی، امن اور خودمختاری مفت حاصل ہونے والی نعمتیں نہیں........

© Daily Urdu