menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aye Mere Kashmiri Bhaiyo

16 0
friday

اے میرے کشمیری بھائیو

خونی انقلابات کا دور گزر چکا، اب معاشی اور ادراکی انقلاب کا وقت ہے۔ دنیا بدل چکی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب قومیں بندوق کے زور پر فتح کی جاتی تھیں، شہروں پر قبضہ ٹینک کرتے تھے اور انقلابات خون کی ندیاں بہا کر برپا ہوتے تھے۔ مگر اکیسویں صدی کی جنگیں مختلف ہیں۔ آج انسان کے جسم سے پہلے اس کے ذہن پر قبضہ کیا جاتا ہے۔ آج معیشت ہتھیار ہے، معلومات اسلحہ ہیں، بیانیہ فوج ہے اور ادراک میدانِ جنگ بن چکا ہے۔ جو قومیں اس حقیقت کو نہیں سمجھتیں، وہ دشمن کی گولی سے پہلے اپنی ہی غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔

ہمارے معاشروں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمیں اصل جنگ سے بے خبر رکھا جاتا ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہماری تمام مشکلات کا سبب صرف ایک حکومت، ایک جماعت یا ایک ادارہ ہے، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ہم اپنے غصے کا رخ اکثر ان مقامات کی طرف کر دیتے ہیں جہاں شاید مسئلے کی جڑ موجود ہی نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل طاقتیں خاموشی سے اپنے مقاصد حاصل کرتی رہتی ہیں اور ہم ایک دوسرے سے ہی برسرِ پیکار رہتے ہیں۔

نظامِ تعلیم کا مقصد اگر آزاد ذہن پیدا کرنے کی بجائے صرف امتحان پاس کرنے والے افراد تیار کرنا بن جائے تو وہ قوم کی تعمیر نہیں کرتا بلکہ ذہنی جمود پیدا کرتا ہے۔ ایسی تعلیم معلومات تو دے سکتی ہے مگر شعور نہیں، ڈگری تو دے سکتی ہے مگر بصیرت نہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جو سوال کرنا چھوڑ دے،........

© Daily Urdu